"فن، فنکار اور تعریف" از قلم ریم ممتاز

اگر آپ نے غور کیا ہو تو "تعریف" کا تعلق اکثر "فن" سے ہی ہوتا ہے۔ یعنی کوئی صلاحیت، کوئی قابلیت، کوئی ہنر، کوئی انداز، کوئی سلیقہ... یہ سب کسی نہ کسی طرح فن کا حصہ ہیں۔ محبت کرنا بھی ایک فن ہے، عزت دینا اور لینا بھی ایک فن ہے، شیریں مزاج ہونا بھی ایک فن ہے، اچھی خصلت کا ہونا بھی ایک فن ہے۔ اسی لیے میں نے کہا کہ تعریف کسی نہ کسی طرح فن سے ہی منسلک ہوتی ہے۔ اب اس زمرے میں عموما ہمارا تاثر یہی ہوتا ہے کہ ہم جب بھی کوئی بہترین، خوبصورت یا انگشت بدنداں ہو جانے والی چیز دیکھیں تو ہم اس چیز کو تعریف سے نوازتے ہیں اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ کسی چیز کا سحر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ہم اس کے "خالق/ فنکار" کو سراہنے لگتے ہیں۔ سو... تعریف دو طرح سے ہوتی ہے۔ یا "فن" کی یا پھر "فنکار" کی۔

اب ذرا غور کریں کہ مثلا ایک مصور ہے، جس کے ہاتھوں میں، تصویر میں روح پھونکنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کی شاہکار تصویروں کے آگے رک کر لوگ کھو جاتے ہیں، اسے گھنٹوں تک تکتے رہتے ہیں، سراہتے ہیں لیکن کیا اس عمل سے اس تصویر کو کوئی فرق پڑے گا؟ کیا اس میں کوئی بدلاؤ یا نکھار آئے گا؟ نہیں آئے گا! اسے آپ کی تعریفوں کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ وہ محسوس کرنا جانتی ہے اور نہ ہی خود کو بدلنا... لیکن اگر وہی عمل آپ اس مصور کے سامنے کریں یعنی اسے سراہیں، اسے ان شاہکار پر مبارک باد دیں، اس کے ہنر اور فن میں برکت کی دعا دیں تو اس صورت میں فرق پڑے گا۔ اس فنکار کے فن میں واقعی برکت آئے گی، وہ "محنت وصول بول" اس کے فن کو اور چمکا دیں گے۔

ہماری تعریفوں کی حق داد چیزیں نہیں ہیں، بلکہ انسان ہوتے ہیں۔ ان چیزوں کے خالق ہوتے ہیں۔ سراہے جانے کے حقدار فن سے زیادہ فنکار ہوتے ہیں کیوں کہ اگر فنکار ہی نہ ہو تو فن کہاں سے تخلیق پائے گا اور اس سے بھی زیادہ... جو بلاواسطہ اور بلواسطہ اس کائنات کے ہر فن کے پیچھے ہے... یعنی اللہ! اصل تعریف کا حق دار تو وہ اللہ ہے، جس نے اپنی قدرت سے جملہ جہان میں آنکھوں کو متحیر، تسخیر اور مبہوت کر دینے والے فن اور فن پارے بکھیر رکھے ہیں۔ اس حسین پروردگار کی کائنات میں ہر شے میں حسن ہے۔ ہم اللہ کی اس دنیا میں اتنے محو ہیں کہ بس اسی دنیا کو پوجتے رہتے ہیں، اللہ کی ثناء فراموش کر دیتے ہیں۔ کسی خوبصورت انسان کو دیکھا تو اس کے سحر میں ڈوبتے گئے اور بھول گئے کہ اسے بنایا کس نے ہے۔ بعض اوقات خود کو ہی ملنے والے کسی ہنر یا نعمت کی اتنی پرستش شروع کر دیتے ہیں اور نوازنے والے کی قدر دانی کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں کیوں سکھایا جاتا ہے اچھی چیزوں، خبروں اور باتوں پر "ماشاءاللہ" کہنا... تاکہ ہم جان لیں "ہر چیز اس کے لیے ہے اور اسی کی طرف سے ہے"، حالاں کہ بیشک وہ اللہ تو بے نیاز ہے۔ ہم انسان تو اس کی ویسے تعریف کر بھی نہیں سکتے، جیسی تعریف و ثناء کا وہ حق دار ہے مگر ہمیں ہر حال میں "عاجزی" اختیار کرنے اور عاجز رہنے کی ضرورت ہے۔

ہم معمولی سے انسان، جو کسی چیز پہ قدرت نہیں رکھتے، پھر بھی اپنے لیے تعریف کے بول سن کر کیسے مسرور ہو جاتے ہیں، پھولے نہ سماتے ہیں تو وہ اللہ... جو واقعتا تعریف کے قابل ہے، اسے کتنا پسند ہو گا کہ اس کی ثناء کی جائے، اس کے بندے اس کی تعریف کریں، اس کا شکر بجا لائیں تاکہ وہ ان سے خوش ہو جائے اور انھیں اور نوازے۔ دنیا کے بادشاہوں نے یہ ادا کہاں سے سیکھی ہے کہ خوش ہو کر جھولی بھر دینا یا کچھ نواز دینا؟ کائنات کے اصل، حقیقی اور واحد بادشاہ سے ہی تو سیکھی ہے۔ بس اللہ پاک ہمیں اپنی حمد و ثناء کی توفیق اور سلیقے سے نواز دے۔ آمین!