صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین کی زیر صدارت مسیحی شادیوں کے حوالے سے ڈرافٹ تیار کرنیکا دوسرا اجلاس 

ہر فرد کی مذہبی آزادی کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے:اعجاز عالم آگسٹین

صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین کی زیر صدارت مسیحی شادیوں کے حوالے سے ڈرافٹ تیار کرنیکا دوسرا اجلاس 

لاہور: صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین کی زیر صدارت مسیحی نکاح کے لئے لازمی شرائط کے حوالے دوسرا اہم سیشن نیو منسٹر بلا ک کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری انسانی حقوق ندیم الرحمان نے تمام شرکا ءکو دوران بریفنگ بتایا کہ کچھ عرصہ قبل کچھ افسوسناک واقعات رونما ہوئے خاص طور پر انسانی سمگلنگ کے حوالے سے چینی شہریوں کے ساتھ عیسائی لڑکیوں کی شادیاں دیکھنے میں آئیں ۔ اس پر ایکشن لینے کے بعد سپریم کورٹ پاکستان کی ہدایات کے مطابق محکمہ نے کرسچن میرج ایکٹ، 1872 کے انتظامی طبقات کا جائزہ لیا جبکہ ایکٹ کی دفعہ 83 کے تحت صوبائی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی حتمی منظوری کے بعد قواعد و ضابطہ میں ترمیم کر سکتی ہے۔

ڈائریکٹر انسانی حقوق محمد یوسف نے کرسچن میرج ایکٹ کے حوالے سے نکاح کےلئے محکمہ کی جانب سے تیار کردہ مسودے کے حوالے سے بتایا کہ کرسچن میرج ایکٹ کے تحت 5 اہم نکات موجود ہیں ، جن میں اسقفی حیثیت کے حامل افراد،چرچ آف اسکاٹ لینڈ کے کلیسی ممبر،قانون کے تحت رجسٹرمسیحی منسٹر،نکاح رجسٹرار اور لائسنس یافتہ افراد شامل ہیں جبکہ محکمہ کے پاس لائسنس یافتہ افراد کا ریکارڈ ہی موجود ہے تاہم خواہاں ہیں کہ متعلقہ چرچ کے رسم و رواج اور طریقہ کار کے مطابق بشپ یا آرچ بشپ کا اعزاز حاصل کرنیوالے مسیحی صرف پاکستانی قانون کے تحت رجسٹر ہونے والے چرچ اہل ہو سکیں۔ریسرچ آفیسر محمد شعیب نے تمام شرکاءکو بتایا کہ نکاح کی سند کے حوالے سے 04پرتیں یقینی ہوں گی، جس میں ایک پرت دلہا کی ،ایک دلہن کی،ایک نکاح خواںاور ایک یونین کونسل کے لئے ہوگی جبکہ سند کے اجراءکےلئے 07دن کی حد مقرر ہوگی۔اس کے بعد دلہا اور دلہن وغیرہ کے تفصیلی کوائف کا کمپیوٹرائزڈ راندراج کیاجائےگا اور تمام ریکارڈ محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کے ساتھ رجسٹرار جنرل کے پاس ہر سال جمع ہوگا۔

اجلاس میں شامل بشپ صاحبان وغیرہ نے محکمہ انسانی حقوق کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مختلف تجاویز بھی پیش کیں ،جن میں بیرون ممالک سے آنیوالے افراد کو متعلقہ ایمبیسی کی جانب سے کلیئرنس لیٹر اور پاکستان میں شادی کےلئے فریڈم لیٹر( این او سی)کو لازمی قرار دیا جائے جبکہ نکاح کے فارم میں ازواجی حیثیت اور انگوٹھے کے نشان کو بھی لازمی کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے فراڈ وغیرہ سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید تجویز دی کہ پاکستان بھر میں 150سے 200سال پرانے گرجا گھر موجود ہیں اور اسی دور سے قواعدو ضوابط چلے آرہے ہیں جنکو جدید دور کے تقاضوں کے حوالے سے تبدیل کیا جائے ۔رجسٹرا رجنرل پنجاب نے کہا کہ نکاح کے اندراج کے لئے لوکل گورنمنٹ کے ساتھ ملکر یونین کونسل میں اندراج لازمی بنا رہے ہیں جبکہ نادرا سے براہ راست مدد لی جا سکتی ہے ۔ صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ امید ہے کہ محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کیجانب سے تیار کردہ مسودہ 21 ویں صدی کی تکنیکی ضروریات کو بھی پورا کرے گا جبکہ ہر فرد کی مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کو بھی تحفظ دے سکے گا۔

انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان میں موجود تمام مذہبی اقلیتیں مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں اور حکومت اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے تمام جائز حقوق کی فراہمی یقینی بنا نے کےلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اقلیتی مسودہ برائے اندراج نکاح میں تما م شقیں21ویں صدی سے مطابقت رکھتی ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ کسی کے بھی بنیادی حقوق سے تصادم کا باعث نہیں بن سکیں گی تاہم خواہاں ہیں کہ آج کے اجلاس میں پیش کی جانیوالی تجاویز کو زیر غور لانے کے بعد ایجنڈے کو حتمی شکل دی جاسکے تاکہ اگلے مراحل کے لئے بھیجا جا سکے۔اجلاس میںایم پی اے ہارون عمران گل،بشپ ولسن گل،بشپ یعقوب پال،بشپ ڈینئیل واشنگٹن،، بشپ ڈاکٹر ڈومنیک جاوید، بشپ ڈینیئل ابراہیم، پادری نعیم پرشاد،نمائندہ رجسٹرار جنرل پنجاب ،نمائندہ لوکل گورنمنٹ اور محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کے افسران موجود تھے۔