پسند کی شادی کرنے والی دو کم عمر لڑکیوں کو شوہروں کیساتھ جانے کی اجازت

 پسند کی شادی کرنے والی دو کم عمر لڑکیوں کو شوہروں کیساتھ جانے کی اجازت

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے کم عمری میں پسند کی شادی کے بعد مبینہ اغوا کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے لڑکیوں کو اپنے شوہروں کے ہمراہ جانے کی اجازت دے دی۔

سندھ ہائیکورٹ میں پسند کی شادی کے بعد مبینہ اغوا سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے لڑکیوں کو اپنے شوہروں کے ہمراہ جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت عالیہ  نے تفتیشی افسر کو سی کلاس کی رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

پولیس حکام نے لڑکیوں کے بیانات کے بعد کیسز سی کلاس کردیئے۔ لڑکیوں نے بیانات دیئے تھے کہ ہمیں کسی نے اغوا نہیں کیا مرضی سے شادی کی ہے۔

عدالت نے مسمات عتیقہ اور سکینہ کی درخواستیں نمٹا دیں۔ عدالت نے خیر پور میرس سے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی ناہید کو بھی تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ناہید کو کٹہرے میں کھڑا کرکے بیان لیا۔ لڑکی نے بیان دیا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا مرضی سے شادی کی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ لڑکی کو گھر والوں نے کاری قرار دے دیا ہے۔ والدین نے متعلقہ عدالت میں 22 اے کی درخواست دائر کی ہے۔ لڑکی یا لڑکے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے گئے تو قتل کردیا جائے گا۔متعلقہ ٹرائل کورٹ میں صرف وکیل کے زریعے پیروی کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسران کو 3 دن میں مقدمات کی سی کلاس رپورٹ ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں کے اہلخانہ نے لڑکوں کیخلاف اغواء کے مقدمات درج کرا رکھے تھے۔