پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کا رجحان

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کا رجحان

کراچی: روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کی شدت بڑھنے سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل و دیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے رحجان سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کے اثرات غالب رہے۔

100 انڈیکس میں 46600 پوائنٹس کی سطح گرگئی تاہم آل شئیر انڈیکس بڑھنے سے حصص کی مالیت 6ارب 99کروڑ 40لاکھ 58ہزار 926روپے بڑھ گئی جبکہ 59.22فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کا فوری طور پر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے اور مطلوبہ شرائط پر مزاکرات کے آغاز جیسے عوامل کے سبب کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر 368پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن فوری منافع کے حصول کا رحجان غالب ہونے سے مذکورہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور ایک موقع پر 173 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 61.95پوائنٹس کی کمی سے 46539.59پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ۔ اسکے برعکس کے ایس ای30 انڈیکس 36.52پوائنٹس کے اضافے سے 17942.72، کے ایم آئی 30 انڈیکس 254.47پوائنٹس کے اضافے سے 76293.29 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 71.29پوائنٹس کے اضافے سے 23004.38 پر بند ہوا۔

کاروباری حجم گذشتہ جمعہ کی نسبت 30.12فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 25کروڑ 56لاکھ 8ہزار 677حصص کے سودے ہوئے۔

کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 336 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 107 کے بھاؤ میں اضافہ ، 199 کے داموں میں کمی اور 30 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ 27.77روپے بڑھ کر 2250روپے اور رفحان کے بھاؤ 100روپے بڑھ کر 11450روپے ہوگئے جبکہ گیٹرون انڈسٹری کے بھاؤ 32.49 روپے گھٹ کر 462.50روپے اور سفائر فائبر کے بھاؤ 58.78روپے گھٹ کر 901روپے ہوگئے۔