پانی قدرت کی طرف سے عطا کردہ بہترین تحفہ ہے اس کو محفوظ کر کے ہم آنے والی نسلوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں: محسن خان لغاری

2025ء تک  پاکستان  کا شمار پا نی کی قلت کا شکار ممالک میں شامل ہونے کا خدشہ ہے ہمیں پانی کے ضیاع کو روکنا ہو گا جس کیلئے مزید ڈیم بنانے کی ضرورت ہے: صوبائی وزیر آبپاشی

پانی قدرت کی طرف سے عطا کردہ بہترین تحفہ ہے اس کو محفوظ کر کے ہم آنے والی نسلوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں: محسن خان لغاری

لاہور: صوبائی وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے آج مقامی ہوٹل میں وزارت آبپاشی کے زیر انتظام یو ایس ایڈ اور انٹر نیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے منعقدہ پاکستان واٹر کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس سے سیکرٹری اریگیشن پنجاب سیف انجم، سیکرٹری ایریگیشن خیبر پختونخوا ہ طاہر اور کزئی، چیف انجینئر نگ ایڈوائزر منسٹری آف واٹر پاکستان،ڈاکٹر محسن حفیظ کنٹری ریپریزنٹیٹو انٹر نیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ، ڈاکٹر عابد بودلہ ممبر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب، ملک اکرم ڈائریکٹر جنرل آف فارم واٹر مینجمنٹ، ڈاکٹر عارف انور پرنسپل ریسرچر اریگیشن (IWMI)، ڈاکٹر عظیم علی شاہ، سینئر ریجنل ریسرچر وائر گورنس (IWMI)نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر برن ہارڈ سینئر ریسرچر یونیورسٹی آف بون جرمنی اور ڈاکٹر یاسمین صدیقی ڈائریکٹر ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک نے زوم لنگ کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کی۔

صوبائی وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانی قدرت کی طرف سے عطا کردہ ایک بہترین نعمت ہے اس کو محفوظ کر کے ہم آنے والی نسلوں کو محفوظ بنا سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء تک پاکستان کا شمار پانی کی قلت کا شکار ممالک میں شامل ہونے کا خدشہ ہے اس سے ہمیں پانی کے ضیاع کو روکنا ہو گا اور مزید ڈیمز بنانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانی محفوظ کرنے کیلئے بڑے بڑے ڈیمز بنانے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے چھوٹے منصوبے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر محسن خا ن لغاری نے کہاکہ ہماری حکومت نے رودکو ہی نالوں پر ڈیم بنانے کے منصوبے شروع کر دیئے ہیں۔

انہو ں نے کہا کہ پانی کے استعمال کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے جس پر قابو پانے کیلئے ہمیں پانی کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔ سیکرٹری آبپاشی پنجاب سیف انجم نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ آبپاشی پنجاب نے کا فی شعبوں میں ریفارمز کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ہیو من ریسورس مینجمنٹ سسٹم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جب کہ ترقیاتی منصوبہ جات میں ٹھیکوں کو نظام میں شفافیت کیلئے ای ٹینڈرنگ اور ای پر و کیور منٹ کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبیانہ کی وصولی کی شفافیت کیلئے ای آبیانہ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ تمام شرکاء نے پانے کے ضیاع کو روکنے اور اس کے بہتر استعمال کیلئے اپنی اپنی تجاویز دیں۔