وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کا 50واں اجلاس

اجلاس میں صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق، سیکرٹری خزانہ عبداللہ سنبل اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان کے علاوہ مشیر وزیر اعلیٰ برائے اقتصادی امور ڈاکٹر سلمان شاہ نے بذریعہ زوم شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی 16 جانب سے زائد سفارشات پیش کی گئیں

وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کا 50واں اجلاس

لاہور: وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کا 50واں اجلاس آج وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق، سیکرٹری خزانہ عبداللہ سنبل اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان کے علاوہ مشیر وزیر اعلیٰ برائے اقتصادی امور ڈاکٹر سلمان شاہ نے بذریعہ زوم شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی 16 جانب سے زائد سفارشات پیش کی گئیں۔

محکمہ آبپاشی کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے فنڈز کی توثیق، محکمہ داخلہ کی ایمرجنسی سروس1122پنجاب میں خدمات فراہم کرنے والے ڈاکٹرز کے ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس میں اضافے، فضل کچھا، تحصیل تونسہ اور بہارتی میں ریسکیو سینٹرز کے قیام، فرانزک ٹریننگ لیبارٹری میں 175نئی بھرتیوں، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے ملازمین کے لیے خصوصی گرانٹ،محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے کالج اوریونیورسٹیز میں رحمت اللعالمین تعلیمی وظائف اور محکمہ صحت کی جانب سے الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں ایمرجنسی آپریشن تھیٹرز کے لیے فنڈز کی سفارشارت منظور کر لی گئیں۔ سیالکوٹ میں اپلائڈ انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سمبڑیال، حافظ آباد یونیورسٹی، ٹھوکر نیاز بیگ بس ٹرمینل اور مری میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے قیام کی سفارشات منصوبہ جات کے تفصیلی تجزئیہ تک موخر کر دی گئیں۔

صوبائی وزیرنے ریسکیو1122کی سر وسز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک حادثات اور ہنگامی حالات میں ریسکیو 1122کی تاخیر اور عملے کی عدم دلچسپی شرح اموات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ ادارے کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جائے۔ محکمہ داخلہ بتائے کے تاخیر سے پہنچنے کی شکایات پر آخری بار ادارے کا آڈٹ کب کیا گیا۔معاملات کی انکوائری کا کیا طریقہ کار ہے، ابھی تک کتنی شکایات پرتفتیش کروائی گئی اور اصلاح کے لیے کیا اقدامات اُٹھائے گئے؟ صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت ا یمرجنسی سروسز کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں تحصیل کی سطح پر سینٹرز کے قیام کو یقینی بنا رہی ہے۔

ضروری ہے کہ ادارہ اپنی سروسز کو بہتر بنائے۔اجلاس میں کورونا سے تحفظ کیلئے ویکسین کی خریداری سے متعلق معاملات بھی زیر بحث لائے گئے۔ صوبائی وزیر نے سیکرٹری ہیلتھ کو ہدایت کی کہ وہ ویکسین کی خریداری کے لیے تکنیکی معاملات، اخراجات اور تر سیل کے طریقہ کار سے آگاہ کریں تاکہ ویکسین کی بروقت دستیابی کو یقینی بنائی جا سکے۔ مزید برآں مستقبل میں ہیلتھ انشورنس کارڈ کے اجراء کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں خدمات کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی آؤٹ سورسنگ سے متعلقہ معاملات پر بھی تفصیلی بریفنگ دیں۔ سول سیکرٹریٹ کی وی آئی پی فلائٹس کے ایوی ایشن سے متعلق معاملات وفاقی اداروں کے ساتھ زیر بحث لائے جائیں۔ صوبائی وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ پنجاب میں سرکاری سطح پر ا نشورنس کمپنی کے قیام کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔