حکومت کا 30 جون کے بعد رجسٹریشن کے بغیر وی پی این بند کرنے کا فیصلہ

پی ٹی اے کی جانب سے جاری اشتہارات اور نوٹی فکیشن میں انٹرنیٹ صارفین کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ اپنے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے 30 جون تک وی پی این کی رجسٹریشن کروالیں

حکومت کا 30 جون کے بعد رجسٹریشن کے بغیر وی پی این بند کرنے کا فیصلہ

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ پر ہر طرح کے مواد تک رسائی کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) سافٹ ویئر کا استعمال کرنے والے صارفین 30 جون تک رجسٹریشن کروالیں دوسری صورت میں وہ مذکورہ سہولت کو استعمال نہیں کر سکیں گے۔  پی ٹی اے کی جانب سے جاری اشتہارات اور نوٹی فکیشن میں انٹرنیٹ صارفین کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ اپنے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے 30 جون تک وی پی این کی رجسٹریشن کروالیں۔

30 جون تک رجسٹریشن نہ کروانے والے صارفین آخری تاریخ کے بعد وی پی این کے کسی بھی سافٹ ویئرز کو استعمال کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ پی ٹی اے کے مطابق 30 جون تک تمام صارفین مفت میں انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز سے وی پی این کی رجسٹریشن کروا سکتےہیں۔ اس ضمن میں پی ٹی اے کی جانب سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں کو 2 فارمز فراہم کیے گئے ہیں، جنہیں بھرنے کے بعد صارفین کی رجسٹریشن ہو جائے گی۔

انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے ایک ادارے کی جانب سے ڈان کو فراہم کیے گئے رجسٹریشن فارم سے پتہ چلتا ہے کہ صارف کو رجسٹریشن کے لیے حساس معلومات بھی فراہم کرنے پڑے گی۔ صارف کو وی پی این کی رجسٹریشن کے لیے اپنی انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) ایڈریس سمیت وی پی این سافٹ ویئر کی تفصیلات اور اسے استعمال کرنے کے مقاصد یا اپنے کاروبار کی تفصیل بھی فراہم کرنے پڑے گی۔

رجسٹریشن کے لیے صارف کو 2 فارم بھرنے ہوں گے اور صارف کو کچھ مطلوبہ دستاویزات اور قسم نامہ بھی جمع کروانا ہوگا۔ وی پی این کی رجسٹریشن کے حوالے سے پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ مذکورہ قدم ملک میں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور قومی خزانے کو ہونے والے نقصان سے بچانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ وی پی این کے ذریعے نہ صرف عام صارفین متنازع اور ملک میں پابندی کے شکار انٹرنیٹ مواد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں بلکہ ایسے سافٹ ویئرز کو کاروباری ادارے اور خصوصی طور پر بینک بھی استعمال کرتے ہیں۔

ایسے سافٹ ویئرز کو استعمال کرتے ہوئے موبائل و انٹرنیٹ آپریٹرز غیر قانونی کاروبار بھی کرتے ہیں جب کہ کچھ کاروباری ادارے ان سافٹ ویئرز کو استعمال کرتے ہوئے ٹیکس سے بچنے کے لیے غیر قانونی طور پیسوں کی لین دین بھی کرتے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے وی پی این کی رجسٹریشن کا یہ قدم اپنے 2010 کے مانیٹرنگ اینڈ ری کنسیلیشن آف ٹیلی فونی ٹریفک ریگولیشنز (ایم آر آئی ٹی ٹی) کے قانون کے تحت اٹھایا جا رہا ہے جس کی کلاز 6 ادارے کو ہر طرح کی خفیہ فون کالز و انٹرنیٹ سروس کی نگرانی اور اس کی بندش کا اختیار فراہم کرتی ہے۔

پی ٹی اے نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ 30 جون کے بعد وی پی این استعمال کرکے غیر قانونی کام کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ پی ٹی اے کی جانب سے وی پی این کی رجسٹریشن کی تاریخ کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنےآیا ہے جب کہ حال ہی میں کئی انٹرنیٹ صارفین نے وی پی این سافٹ ویئرز کے کام نہ کرنے کی شکایات کی تھیں۔ صارفین نے شکایات کی تھیں کہ انہیں وی پی این تک آسانی سے رسائی دینے والے ٹوری براؤزر کے ذریعے بھی وی پی این تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔  پی ٹی اے نے وضاحت کی ہےکہ انہوں نے تاحال وی پی این یا ٹوری براؤزر کے حوالے سے کوئی ایکشن نہیں لیا اور اس ضمن میں 30 جون کے بعد کارروائیوں کا آغاز کیا جائے گا۔