فری لانسرز اور ان کا مستقبل

٭عالمی ڈیٹا کا حجم اگلے چار سال میں دُگنا ہوجائے گا۔ اس کے اگلے تین برسوں میں ڈیٹا کا حجم پھر دُگنا ہوجائے گا۔

فری لانسرز اور ان کا مستقبل

ہم پہلے چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں فری لانسرز کے لیے پیدا ہونے والے مواقعوںکی بات کریں، پہلے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ہونے والی کون سی پیش رفت کس طرح چوتھے صنعتی انقلاب کی داغ بیل ڈال رہی ہے:

٭عالمی ڈیٹا کا حجم اگلے چار سال میں دُگنا ہوجائے گا۔ اس کے اگلے تین برسوں میں ڈیٹا کا حجم پھر دُگنا ہوجائے گا۔

٭بغیر پائلٹ والے جہاز (ڈرونز) زراعت اور کئی مشکل کاموں کو آسان بنارہے ہیں۔ دور دراز رہنے والی آبادیوں کے لیے آسانیاں پیداہورہی ہیں۔ لوگوں اور اشیا کی آمدورفت کے طور طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں آرہی ہیں۔

٭ماحولیاتی تبدیلی، حیاتی تنوع اور سمندری آلودگی فوری چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے چھوٹے سیٹیلائٹ، روبوٹک پلیٹ فارم، مصنوعی ذہانت اور جینیٹک سیکونسنگ جیسی نئی ٹیکنالوجیز سامنے آرہی ہیں۔

٭اگلے سال تک انٹرنیٹ آف تھنگز کی مارکیٹ 20ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گی۔

٭خود کار گاڑیاں (آٹونومس وہیکل)سفر کو زیادہ محفوظ بنانے کے ساتھ آلودگی میں کمی لائیں گی، یہ شہروں اور ہمارے سفر کرنے کے طریقوں کو بدل کر رکھ دیں گی۔ خودکار گاڑیاں آمد ورفت کے نجی اور عوامی نظام کو بھی تبدیل کر دیں گی، جس کا لاکھوں لوگوں کے روزگار پر اثر پڑے گا۔

٭ٹریکنگ اور لین دین کے لیے بلاک چین ایک طاقتور طریقہ ہے، جو تجارت پر وسیع پیمانے پر اثرانداز ہوگا۔ کِرپٹوکرنسیاں اس کی ایک مثال ہیں، اسی طرح دیگر شعبہ جات جیسے توانائی، جہازرانی اور میڈیا میں اس کے استعمال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

٭جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور جینیاتی و حیاتی ڈیٹا کی بڑے پیمانے پردستیابی علاج کے نتائج کو بہتر اور لاگت میں کمی لاسکتی ہے۔

بڑے پیمانے پر سامنے آنے والے ’مسائل نما مواقع‘ ایک انفرادی فری لانسر کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ اس کا سادہ سا جواب ہے ’مواقع‘ اور ان مواقعوں سے مستفید ہونے کے لیے 5اقدام لینے پر غور کرنا ضروری ہے:

1) نئے رجحانات سے باخبر رہیں تاکہ وہ آپ کو ’حیران‘ نہ کرپائیں: ہم کئی ایسی کمپنیوں کے بارے میں جانتے ہیں، جنھوں نے بدلتے رجحانات پر نظر نہ رکھی اور نئی ٹیکنالوجی یا نئے رجحانات نے ان کی مضبوط کاروباری بنیادوں کو نہ صرف ہلاکر رکھ دیا بلکہ مقابلے کی فضا میں انھیں اپنا کاروبار بند کرنا پڑگیا۔ بطور فری لانسر آپ بھی تبدیلیوں، نئے رجحانات اور مارکیٹ کے بدلتے مزاج پر نظر رکھیں اور اپنے کام کی نوعیت کے قریب ترپیدا ہونے والے نئے مواقعوں کو پہچانیں، ان پر نظر رکھیں اور ان کے لیے خود کو تیار کریں۔

2) بڑا سوچیں: ہارورڈ بزنس ریویو میں شائع ہونے والی ریسرچ رپورٹ کے مطابق، وہ کمپنیاں جن کی بنیاد آنے والی کئی دہائیوں تک صارفین کی خدمت کے ’بڑے مقصد‘ کے لیے رکھی جاتی ہے، وہی بلندیوں کو چُھوتی ہیں۔ کوئی بھی چھوٹا کام کرنے کے لیے کاروبار نہیں کرتا۔ ایسے میں فری لانسرز کو بھی بڑے مقصد کو سامنے رکھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

3) متوقع نتائج کا اندازہ کریں اور اپنا حصہ حاصل کریں: آپ آئندہ 3سے5برسوں میں اپنے کاروبار کو کہاں دیکھتے ہیں؟ آپ جس وژن کو لے کر چلے تھے اور آج جس شکل میں آپ کا کاروبار ہے، اس فرق کو ختم کرنے کے لیے کیا کریں گے؟ کیا آپ جن مہارتوں کے مالک ہیں، وہ آپ کے کام کے لیے کافی ہیں؟ کیا آپ کی نئے رجحانات پر نظر ہے اور آپ نے کامیابی کے لیے ان رجحانات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود کو تیار کیا ہے؟ مستقبل کی افرادی قوت کیسی ہوگی؟ مستقبل میں جُزوقتی اور گھر بیٹھ کر یا فاصلاتی کام کرنے کا رجحان بڑھ جائے گا ، آپ ان مواقعوں سے کس طرح فائدہ اُٹھانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں؟

4) ہم خیال اور بہتر ہنر یافتہ دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں: جیسے جیسے کام کرنے کے مختلف پلیٹ فارمز روز بروز حجم میں بڑے سے بڑے ہوتے چلے جارہے ہیں اور یہ پلیٹ فارمز ’ایجنسیز آف ایجنسیز‘ بنتی جارہی ہیں، انفرادی فری لانسرز کے لیے مسابقتی ماحول کے فوائد سُکڑ رہے ہیں، یہ رونما ہوتا ہوا ایک نیا رجحان ہے۔ ایسے میں فری لانسرز کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی مہارتوں کو مزید بہتر بنائیں بلکہ دیگر فری لانسرز کے ساتھ بھی اپنے روابط بڑھائیں اور ان اُبھرتے ہوئے خطرات کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیں۔

5) عمل کریں اور اپنی موجودگی کا احساس دِلائیں: ٹیلنٹ کے بڑے پلیٹ فارمز آپ کو سُست بنادیتے ہیں اور مارکیٹ کا حجم جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے آپ کے لیے اپنی انفرادیت برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل بن جاتا ہے۔ نتیجتاً، گزرتے وقت کے ساتھ مصنوعی ذہانت انسان کی جگہ لیتی جارہی ہے۔ ایسے میں اگر بطور فری لانسر آپ کےپاس کوئی ’پلان‘ نہیں ہوگا تو آپ بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ اَپ ورک کے اسٹیفن کیسریل کے مطابق، کاروبار شروع کرنے اور پھر اسے برانڈ بنانے میں وقت لگتا ہے۔ 

اسٹیفن کے مطابق، ان کے پلیٹ فارم پر آنے والے صرف 2فیصد نئے فری لانسرز ہی پہلے مہینے میں کام حاصل کرپاتے ہیں۔ آپ کو اپنی توانائی، خدمات اور مقصد پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اپنے لیے پہچانے جانے کے قابل اور منفرد شناخت قائم کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ہی کلائنٹس کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ وہ آپ کو یا آپ کی ٹیم کو ایک کام کیوں تفویض کریں۔ 

جیسا کہ کیسریل کہتے ہیں، ’’ فری لانسنگ ایک کاروبار ہےاور جیسا کہ ایک کاروبار کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ ضروری خصوصیات درکار ہوتی ہیں، اسی طرح فری لانسرز کو بھی اندازہ ہونا چاہیے کہ انہیں کامیاب فری لانسر بننے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ 

اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھیں ضروری مہارتیں حاصل کرنے اور اس کے لیے سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی، کاروباری خصوصیات جیسے فروخت کرنے، وقت پر ڈیلیور کرنے اور اپنی مہارتوں کو بدلتے وقت کے ساتھ بہتر بنانے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے‘‘۔