وزیر اعظم عمران خان کا محنت کشوں میں گھر اور فلیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

نیا پاکستان درحقیقت نئی سوچ کا نام ہے،تعمیراتی شعبہ میں بڑھوتری سے ملکی معیشت کورونا جیسی وبا میں بھی بچی رہی، وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان کا محنت کشوں میں گھر اور فلیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نیا پاکستان درحقیقت نئی سوچ کا نام ہے،تعمیراتی شعبہ میں نمو سے ملکی معیشت کورونا وائرس جیسی وبا میں بھی بچی رہی، اس شعبہ کی وجہ سے معیشت میں بہتری، روزگار میں اضافہ اور دولت کی فراوانی ہوگی جس سے ملک پر چڑھے قرضے واپس کرنے میں مدد ملے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو محنت کش طبقے میں گھر اور فلیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ ذلفی بخاری اور ورکر ویلفیئر فنڈ کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ 25 سال پرانے منصوبے کو حقیقت میں تبدیل کیا۔ یہ بڑی کامیابی ہے ۔ 25 سال سے کسی نے اس کو اپنی ترجیح بنانے کا نہیں سوچا۔یہ لوگ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کے اپنے گھر ہوں گے کیونکہ یہ کبھی بھی کسی حکومت کی ترجیح نہیں تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیا پاکستان درحقیقت نئی سوچ کا نام ہے۔ نئے پاکستان کا مقصد ہی کمزور طبقے کو اوپر لانا ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی سوچ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ کسی پر احسان نہیں۔ یہ محنت کشوں کا حق ہے۔ یہ گھر پہلے کرائے پر ملتے تھے اب وہی کرایہ قسط میں جائے گا اور یہ گھر ان کی ملکیت ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اپنا گھر سب سے بڑی نعمت سمجھی جاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں اراضی کم قیمت پر دستیاب ہونے کی وجہ سے وہاں گھر بنانا قدرے آسان ہوتا ہے تاہم شہروں میں مزدور طبقہ ، تنخواہ دار ،سرکاری ملازم اور پولیس ملازمین کے لئے اپنا گھر بنانا اراضی مہنگی ہونے کی وجہ سے ناممکن ہو تا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بینکوں سے مارگیج کا نیا قانون لے کر آئے ہیں جس سے بینک پہلی بار اس طبقہ کو گھر دے سکیں گے۔ اس قانون کو بنانے اور عدالت سے اجازت لینے میں2 سال لگے، تاخیر کی وجہ یہی تھی۔ وزیراعظم نے سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کو اس موقع پر تاکید کی کہ بینکوں نے اس قرضے کےلئے 380 ارب روپے رکھے ہیں۔عام آدمی کے لئے اس کا حصول آسان بنایاجائے

۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس میں 3 لاکھ روپے کی سبسڈی گھر اور فلیٹ پر بھی دی جا رہی ہے۔ 20 سال کے لئے سود کی شرح کو 5 فیصدپر منجمد کر دیا گیا ہے۔ ملک میں سود کی شرح جتنی بھی بڑھے ان قرضوں پر سود کی شرح نہیں بڑھے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 1500 فلیٹ محنت کشوں کو ا س وقت جبکہ اگلے مرحلے میں مزید 1500 فلیٹ دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سارے پاکستان میں نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبہ شروع ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائوسنگ کی سہولت کی ہر جگہ کمی ہے، اس کی بہت طلب ہے۔ ایسا طبقہ جس کے پاس گھرلینے یا بنانے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا تھااس کے لئے اس منصوبے کا آغاز ہوچکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جیسے جیسے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اس شعبہ میں مزید پیسہ لگائیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ دنیا میں کوئی بھی حکومت مفت گھر نہیں بانٹ سکتی ، اس کےلئے ہم آسانیاں پیدا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ کے لئے پہلی بار حکومت نے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ ہر ہفتہ اس کے لئے جائزہ اجلاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا نے ساری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچا ، پاکستان کے بچنے کی وجہ یہی شعبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیمنٹ ، سریا کی قیمتوں میں ا ضافے کا مطلب ہے کہ تعمیراتی شعبہ چل پڑا ہے۔ سارے ملک میں تیزی سے تعمیراتی شعبہ میں کام ہو رہا ہے