گرانفروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،رواں ماہ465افراد گرفتار،451مقدمات درج

 کین کمشنر پنجاب سے شوگر ملز میں کرشنگ کے آغاز اور کاشتکاروں کو ادائیگیوں سے متعلق رپورٹ طلب ذخیرہ اندوزوں اور نا جائز منافع خوروں سے آ  ہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: چیف سیکرٹری

 گرانفروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،رواں ماہ465افراد گرفتار،451مقدمات درج

لاہور: وزیر اعظم کی ہدایت پر اشیاء ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کیلئے پنجاب حکومت پوری طرح متحرک ہے اور رواں ماہ صوبے میں گرانفروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن  کے دوران465 افراد کو گرفتار، 451 مقدمات کا اندراج اوردو کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کئے گئے۔ یہ بات چیف سیکرٹری پنجاب کی زیر صدارت پرائس کنٹرول اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے منعقد اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔اجلاس میں اشیاء ضروریہ بالخصوص آٹا اور چینی کی قیمتوں، دستیابی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ذخیرہ اندوزوں اور نا جائز منافع خوروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث اوپن مارکیٹ میں آٹا اور چینی وافر داستیاب ہیں اورکم قیمت پر چینی کی فراہمی سے عام آدمی کو ریلیف ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی ارزاں نرخوں پر وافر مقدار میں دستیابی یقینی بنانے کیلئے اضلاع کو درآمد شدہ چینی ا ن کی ڈیمانڈ کے مطابق فراہم کی جا رہی ہے۔چیف سیکرٹری نے کین کمشنر پنجاب سے شوگر ملز میں کرشنگ کے آغاز اور کاشتکاروں کو ادائیگیوں سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی۔

سیکرٹری صنعت نے اجلا س کو بریفنگ میں بتا یا کہ اب تک 26ہزار میٹرک ٹن درآمد شدہ چینی اضلاع میں پہنچ چکی ہے جس میں سے ساڑھے 24ہزار میٹرک ٹن اوپن مارکیٹ اور1374میٹرک ٹن سہولت بازاروں میں فروخت ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فورکاسٹنگ کمیٹی کے سروے کے مطابق پنجاب میں ٹماٹر، پیاز اور آلو کی رسد نومبر کے آخر میں بہتر ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں 361سہولت بازاروں میں اشیاء ضروریہ بشمول آٹا اور چینی رعائتی نرخوں پر دستیاب ہیں اورگزشتہ روز دولاکھ62ہزار افراد نے سہولت بازاروں سے استفادہ کیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنوبی پنجاب)، خوراک اورزراعت کے محکموں کے ایڈمنسٹریٹو سیکرٹریز، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لاہور، سی ای او اربن یونٹ اور متعلقہ افسران نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔