وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت وزراء کی سموگ کمیٹی کا اجلاس

جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمی تغیرات ملک امین اسلم خان، صوبائی وزیر برائے ماحولیات محمد رضوان، وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، وزیر اعلیٰ سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے ہیڈ فضیل آصف نے شرکت کی

وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت وزراء کی سموگ کمیٹی کا اجلاس

لاہور : وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت وزراء کی سموگ کمیٹی کا اجلاس آج محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمی تغیرات ملک امین اسلم خان، صوبائی وزیر برائے ماحولیات محمد رضوان، وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، وزیر اعلیٰ سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے ہیڈ فضیل آصف نے شرکت کی۔ سیکرٹری ماحولیات، سیکرٹری صنعت، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور ایڈیشنل آ ئی جی آپریشنز نے اجلاس کو پنجاب بھر میں سموگ پر کنٹرول کے حوالے سے اب تک کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 2210صنعتی یونٹس کی نگرانی کے بعد مضر صحت دھواں چھوڑنے والے 36یونٹس بند کیے جا چکے ہیں 29کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جا چکی ہے جبکہ195کیس ٹربیونل میں فائل کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 692 بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر لائے جا چکے ہیں جبکہ 111کی جدید ٹیکنالوجی پر منتقلی کا کام جاری ہے۔ 32158گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی ہے جبکہ 61.4ملین کے جرمانے اور 11877چالان کیے گئے۔محکمہ صنعت کے تحت بھٹوں کی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کے لیے 2000ملین روپے کی لاگت سے چار سال پر محیط پروگرام متعارف کروایا جا رہا ہے۔

پروگرام کے تحت زگ زیگ ٹیکنالوجی کے استعمال کی ٹریننگ بھی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ صنعتوں میں سکرائبرز کی تنصیب کا پروگرام بھی ترتیب دیا جا چکا ہے۔ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت 39میں سے 27وکس سینٹرز آپریشنل ہیں جہاں سرکاری گاڑیوں کی چیکنگ کے بعد فٹنس سرٹیفیکٹ جاری کیے جا رہے۔ جنوری 2017سے اب تک دھواں چھوڑنے والی 37,098گاڑیوں کے چالان 24.202ملین کے جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے سیکرٹری صنعت ہو ہدایت کی کہ وہ باقی ماندہ تمام بھٹوں کی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں۔ حکومت پنجاب سموگ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بھٹوں کی جدید ٹیکنالوجی پر منتقلی کے مالی معاونت کے لیے تیار ہے۔ بھٹہ مالکان مقررہ مدت میں بھٹوں کی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کو یقینی بنائیں۔فیکٹریوں میں سکربز کی کی تنصیب کے عمل کو تیز کیا جائے۔ سٹرکوں پر دھواں چھوڑنیوالی پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر گاڑیوں کی بندش سے قبل کے لیے عوامی آ گاہی مہم کا آ غاز کیا جا ئے۔

وہیکل مالکان چالان اور بندش کی زحمت سے بچنے کے لیے گاڑیوں کے معائنے اور فٹنیس کو یقینی بنائیں تاکہ سموگ سیزن سے قبل حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ پبلک سیکٹر کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر وہیکلز کی فٹنس کے لیے بھی میکانزم تیار کرے۔لاہور میں بسوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی نجی شعبہ کی خدمات سے استفادہ کیا جائے۔پرائیویٹ سیکٹر کو ماحول دوست ٹیکنالوجی پر تیار کردہ بسیں روٹ پر لانے کے لیے خصوصی مراعات کی پیشکش کی جائے۔  تمام محکمے گرین پنجاب پروگرام کے تحت ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز کے موثر استعمال کو یقینی بنائیں۔ کمیٹی میں سموگ سیزن میں فوری اقدامات کے لیے ریلیف کمشنر /سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی زیر قیادت ورکنگ گروپ کی تشکیل کا فیصلہ بھی لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ لوکسٹ، کوویڈ اور سیلاب پر کنٹرول کے لیے پی ڈی ایم اے کی کارکردگی کو کو مد نظر رکھتے ہوئے سموگ پر کنٹرول اور تحفظ کے لیے بھی اتھارٹی کی خدمات لی جائیں گی تاکہ اس حوالے سے تمام کاروائیوں کو منظم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سموگ پر کنٹرول کے لیے صنعت اور ٹرانسپورٹ لانگ ٹرم جبکہ ٹریفک پولیس اور پی ڈی ایم اے فوری اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کو ہدایت کی کہ وہ ٹریفک پر کنٹرول کا جامع پرگرام ترتیب دیں۔  وفاقی حکومت صاف تیل کی درآمد کو یقینی بنائے۔ ملک امین اختر نے کہا کہ محکمہ ماحولیات تمام تر توجہ بھٹوں پر مرکوز کرنے کی بجائے دیگر وجوہات کے کنٹرول پر بھی توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں آلودگی پر کنٹرول کے لیے گاڑیوں کی عمر کے ان پر عائد ٹیکس میں اضاف ہ کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں لائف ٹائم ٹوکن دئیے جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ پرانی گاڑیوں کی فٹنس کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ وزیر صنعت نے کہا کہ سموگ سیزن میں بھٹوں کی بندش کی بجائے متبادل تجاویز پر غور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹوں کی بندش سے ماحول پر اتنے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے جتنی مزدورں اور بھٹہ مالکان کی زندگیاں متاثر ہو تی ہیں۔صوبائی وزیر نے گاڑیوں کے دھوئیں اور فصلوں کے باقیات کی تلفی کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر برائے ماحولیات نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرناک اور مضر صحت دھواں ویسٹ بربننگ سے ہی پیداہوتا ہے جو بالخصوص بچوں کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس پر کنٹرول کیا جائے۔ صوبائی وزیر نے ٹائرز کو فیول کے طور پر استعمال کرنے والی فیکٹریاں فوری طور پر بند کروانے کا بھی مطالبہ کیا۔