صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین کی زیر صدارت مسیحی نکاح کے لئے لازمی شرائط کے حوالے دوسرا اہم سیشن

جس میں سیکرٹری انسانی حقوق ندیم الرحمان نے تمام شرکا ء کو دوران بریفنگ بتایا کہ کرسچن میرج ایکٹ کی دفعہ 83 کے تحت صوبائی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی حتمی منظوری کے بعد قواعد و ضابطہ میں ترمیم کر سکتی ہے

صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین کی زیر صدارت مسیحی نکاح کے لئے لازمی شرائط کے حوالے دوسرا اہم سیشن

لاہور: صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین کی زیر صدارت مسیحی نکاح کے لئے لازمی شرائط کے حوالے دوسرا اہم سیشن نیو منسٹر بلا ک کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری انسانی حقوق ندیم الرحمان نے تمام شرکا ء کو دوران بریفنگ بتایا کہ کرسچن میرج ایکٹ کی دفعہ 83 کے تحت صوبائی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی حتمی منظوری کے بعد قواعد و ضابطہ میں ترمیم کر سکتی ہے۔ ریسرچ آفیسر محمد شعیب نے شرکاء کو بتایا کہ نکاح کی سندجس میں ایک پرت دلہا کی،ایک دلہن کی،ایک نکاح خواں اور ایک یونین کونسل کے لئے ہوگی جبکہ سند کے اجراء کیلئے 07دن کی حد مقرر ہوگی۔اس کے بعد دلہا اور دلہن وغیرہ کے تفصیلی کوائف کا کمپیوٹرائزڈ راندراج کیاجائیگا اور تمام ریکارڈ محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کے ساتھ رجسٹرار جنرل کے پاس ہر سال جمع ہوگا۔

اجلاس میں شامل بشپ صاحبان نے محکمہ انسانی حقوق کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مختلف تجاویز بھی پیش کیں،جن میں بیرون ممالک سے آنیوالے افراد کو متعلقہ سفارت خانے کی جانب سے کلیئرنس لیٹر اور پاکستان میں شادی کیلئے فریڈم لیٹر(این او سی)کو لازمی قرار  دینے کی تجویز شامل تھی۔نکاح کے فارم میں ازواجی حیثیت اور انگوٹھے کے نشان کو بھی لازمی کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔انہوں نے مزید تجویز دی کہ پاکستان بھر میں 150سے 200سال پرانے گرجا گھر موجود ہیں اور اسی دور سے قواعدو ضوابط چلے آرہے ہیں جن کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔رجسٹرا رجنرل پنجاب نے کہا کہ نکاح کے اندراج کے لئے لوکل گورنمنٹ کے ساتھ ملکر یونین کونسل میں اندراج لازمی بنا رہے ہیں جبکہ نادرا سے براہ راست مدد لی جا سکتی ہے۔

صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ امید ہے کہ محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کیجانب سے تیار کردہ  مسودہ 21 ویں صدی کی تکنیکی ضروریات کو بھی پورا کرے گا جبکہ ہر فرد کی مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کو بھی تحفظ دے سکے گا۔انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان میں موجود تمام مذہبی اقلیتیں مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں اور حکومت اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے تمام جائز حقوق کی فراہمی یقینی بنا نے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اقلیتی مسودہ برائے اندراج نکاح میں تما م شقیں 21ویں صدی سے مطابقت رکھتی ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ وہ بنیادی حقوق سے تیصادم نہیں ہوں  گی۔ اجلاس میں ایم پی اے ہارون عمران گل،بشپ ولسن گل،بشپ یعقوب پال،بشپ ڈینئیل واشنگٹن،، بشپ ڈاکٹر ڈومنیک جاوید، بشپ ڈینیئل ابراہیم، پادری نعیم پرشاد،نمائندہ رجسٹرار جنرل پنجاب،نمائندہ لوکل گورنمنٹ اور محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کے افسران موجود تھے۔