پاکستانی پروفیشنل اکاؤنٹنٹ نے آسٹریلیا میں چارگولڈ AusMumpreneur 2020  ایوارڈز جیت لیے

پاکستانی پروفیشنل اکاؤنٹنٹ نے آسٹریلیا میں چارگولڈ AusMumpreneur 2020  ایوارڈز جیت لیے

لاہور،:   پاکستان سے تعلق رکھنے والی پروفیشنل اکاؤنٹنٹ مدیحہ عثمان، ایف سی سی اے نے حال ہی میں منعقدہونے والے آسٹریلیا میں چار گولڈ  AusMumprenuer  2020  ایوارڈز جیت لیے ہیں۔ مدیحہ عثمان  اے سی سی اے سے سند یافتہ ہیں اور‘Kalculators’کے نام سے اپنا کاروبار کرتی ہیں۔ مدیحہ عثمان کو یہ ایوارڈز  AusMumpreneur  اور دی ویمنز بزنس اسکول کی جانب سے مشترکہ طور پر دئیے گئے ہیں۔ اِن ایوارڈز کو متعارف کرانے کا مقصد آسٹریلیا میں، مدیحہ جیسی انٹریپرنیورز پر مشتمل،کمیونٹی کو متحرک کرنا اور سراہنا ہے۔ 

مدیحہ کو یہ ایوارڈز پیپل چوائس کسٹمر سروس(People Choice Customer Service)، رائزنگ اسٹار(Rising Star)، بزنس ایکسی لینس ویسٹرن آسٹریلیا اور ایس اے (Business Excellence WA & SA)اور ملٹی کلچرل بزنس (Multicultural Business) کے شعبوں میں دئیے گئے ہیں۔ ایسے مشکل حالات میں،چار شعبوں میں AusMumprenuer  2020  جیتنے کی خبر موصول ہونے پرانتہائی جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے مدیحہ  نے کہا:”میں کاروباری خواتین کی خدمات کا اعتراف کرنے اور اُنہیں اعزاز سے نوازنے پر میں AusMumprenuer  کا خصوصی شکریہ ادا کرتی ہوں۔

 COVIDکی وبا کے دوران اپنی اکاونٹنگ فرم کے دفاتر کو کھلا رکھنا انتہائی دشوار کام تھا کیوں کہ اِس سے انفیکشن کو اپنے گھر تک لانے میں، جہاں میرے دو چھوٹے بچے بھی رہتے ہیں، بہت خطرناک تھا۔ تاہم، جب آپ، ایک بڑے خواب کے ساتھ، کاروبار ی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو آپ کو بہت غیر معمولی یقین کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں، اسے جاری رکھ سکیں۔“

اپنے کیرئیر میں اے سی سی اے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے مدیحہ نے کہا:”اے سی سی اے کا انتخاب حقیقی معنوں میں میرے لیے ایک زندگی بدل دینے والا فیصلہ تھا۔ میرے اے سی سی اے کی سند نے  اس مقام تک پہنچے میں،جہاں میں آج ہوں، بہت مدد کی ہے  جس میں،آسٹریلیا میں اپنی پہلی جاب کے حصول سے لے کر پاکستان دوبارہ ہجرت کرنے تک  تاکہ میں اپنا بزنس قائم کر سکوں، میری قابلیت نے مجھے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروایا ہے اور مدد فراہم کی جو بہت زبردست بات ہے۔“

مدیحہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم نے کہا:”اے سی سی اے کو اپنے پاکستانی اسٹوڈنتس پر بہت فخر ہے۔اپنے تجربات، چیلنجوں اور کامیابیوں کے بتانے سے دیگر لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اے سی سی اے کی خواتین فنانس کے شعبے میں، ملک کی دیگر نوجوان لڑکیوں کے لیے، حقیقی عملی نمونہ ہیں اور اُن کے کیرئیر سے تعلق رکھنے والے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ کوئی بھی شخص صلاحیت اور حوصلہ کے ساتھ،تمام قسم کے حالات میں، کامیابی حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ اس کے پاس معیاری تعلیم اور پیشہ ور کمیونٹی کی جانب ضروری اعانت بھی موجود ہو۔“

ویمنز بزنس اسکول کے شریک بانی، کیٹی گارنر نے کہا:”یہ ایوارڈز ایسی خواتین  کے جذبے کا اظہار کرتے ہیں جو اپنے انٹریپرینیوریل خوابوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ زبردست مائیں بھی ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ مدیحہ عثمان ایف سی سی اے نے یہ ایوارڈ جیتا ہے کیوں کہ انہوں نے غیرمعمولی کاروباری ادارہ قائم کیا ہے اور کاروباری دنیا میں، ہر جگہ، ماؤں کی سفیر  اور متاثر کن عملی نمونہ ہیں۔“