حضرت مسعودالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی 778ویں سالانہ عرس کے سلسلہ میں 15روزہ تقریبات کا آغاز

لنگر،سکیورٹی،پارکنگ،پاپوش پوائنٹس اور زائرین کے لئے شلٹر انتظامات کو بہتر بنانے کی ہدایت  دربار کے اندراور اردگرد سیکیورٹی کیمرے فعال،مانیٹرنگ  عرس کے تمام دنوں میں محکمہ اوقاف کے اہلکاران کی کسی قسم کی کوتاہی یا شکایت کو برداشت نہیں کیا جائے گا

حضرت مسعودالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی 778ویں سالانہ عرس کے سلسلہ میں 15روزہ تقریبات کا آغاز

 لاہور :صوبائی وزیر اوقاف ومذہبی امور سید سعیدالحسن شاہ نے پاکپتن کے معروف صوفی بزرگ حضرت مسعودالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے 778ویں سالانہ عرس کے سلسلہ میں 15روزہ تقریبات میں لنگر انتظامات،سکیورٹی انتظامات،پارکنگ انتظامات اور زائرین کے لئے شلٹر انتظامات و دیگر انتظامات کا متواتر جائزہ لینے کے لئے محکمہ اوقاف کیافسران او اہلکاران کو پابند کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دربار کے اردگرد سیکیورٹی کیمرے کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ تما م اطرافہ واک تھرو گیٹس لگا دئیے گئے ہیں۔

زائرین کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کے لئے سکیننگ اور جامہ تلاشی لی جا رہی ہے۔دربار اور اس کے گرد و جوار میں واقع گھروں کی اور آنے جانے والوں کی سخت تلاشی باقاعدگی سے لی جائے۔سکیورٹی کیمروں کو ہر صورت چالو رکھتے ہوئے مانیٹرنگ کا عمل جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عرس پرآنے والے زائرین کو بہتر سے بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ دوران عرس بجلی کی مسلسل فرا ہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عرس کے تمام دنوں میں محکمہ اوقاف کے اہلکاران کی کسی قسم کی کوتاہی یا شکایت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ دربار کے گرد و جوار میں 24گھنٹے نگرانی کی جائے۔تمام اطراف میں لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے۔کسی بھی مشکوک فردکو موقع پر حراست میں لیا جائے۔جیب تراشوں کے گرد گھیر سخت کیا جائے۔پاپوش رکھنے کے لئے مختلف پو ائنٹس بنائے جائیں تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری نہ ہونے پائے۔انہوں نے کہاکہ اولیائے کرام نے اسلامی تعلیمات کو مکمل طورپر احکامِ شریعت کے نہ صرف تابع قراردیا بلکہ تصوف کو شریعت کا امین اور نگہبان بنا کر پیش کیا۔صوفیائے کرام امن کے علمبر دار اور انسان دوستی کے امین ہیں،ان بزرگان دین کی در گاہیں آج بھی ظاہری و باطنی علوم کے عظیم مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان بزرگان دین کی تعلیمات کو اپنا کر ہم دوبارہ دنیا بھر میں اسلام کا پرچم بلند کر سکتے ہیں۔