بجٹ میں کسی شہر کے ساتھ زیادتی نہیں کی: مخدوم ہاشم جواں بخت ن

صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر سماجی شعبہ میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت تھی : وزیر خزانہ پنجاب

بجٹ میں کسی شہر کے ساتھ زیادتی نہیں کی: مخدوم ہاشم جواں بخت ن

لاہور: وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے کہا ہے کہ بجٹ میں کسی شہر کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔ صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر سماجی شعبہ میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت تھی۔ وائرس کے اثرات سے تحفظ کے لیے اقدامات میں لاہور سر فہرست ہے۔ جہاں تک تعلق انفراسٹریکچر کے ترقیاتی منصوبہ جات کا ہے تو ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی تھیں۔ وہ لوگ جو بیس سال سے لاہور میں ایک جنرل پبلک ہسپتال کا اضافہ نہیں کر سکے ہمیں مت سکھائیں کہ ہمیں کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے۔

جس صوبے کے ہسپتالوں میں ایک بستر پر چار چار مریض زیر علاج ہوں وہاں حکمران اورنج لائن ٹرین جیسے منصوبوں کو کیسے ترجیح دے سکتے ہیں؟ ماضی میں انفراسٹریکچر کے منصوبوں کے تحت ہسپتالوں پر بھی اتنی ہی توجہ دی گئی ہوتی تو وائرس پر کنٹرول کے حوالے سے صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے آج اسمبلی سیشن کے اختتام پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران کیاصوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت لاہور سمیت مختلف اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے لیے ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو فعال کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت انفراسٹریکچر کے متعدد منصوبہ جات ترتیب دئیے جا رہے ہیں۔

لاہور رنگ روڈ کے جنوبی حصہ کی منظوری دی جا چکی ہے۔10ارب روپے سے زائد کا یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ لاہور میں فقید المثال پبلک ہسپتال کے قیام کا منصوبہ جس کا اعلان رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں کیا گیا تھا آئندہ مالی سال میں آغاز کر دیا جائے گا۔ پہلے سے موجود ہسپتالوں کے نظام میں بہتری اور عدم موجود سہولیات کی فراہمی کا کام پنجاب میں تحریک انصاف کے پہلے بجٹ سے آغاز کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی لیپ ٹاپ سے بہت آگے بڑھ چکی ہے کورونا پر کنٹرول کے لیے اضافی اخراجات میں کمی کے بعد لیپ ٹاپ سے بہتر سکیم متعارف کروائیں گے۔

تعلیم کے شعبہ کی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگنی ہے پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے۔فی الوقت آئندہ بجٹ میں رواں مالی سال میں اعلان کردہ مختلف اضلاع میں یونیورسٹیوں کے قیام کے منصوبہ کا آغاز کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کورونا کی وباء سے پیدا ہونے والی صورتحال صرف پاکستان کے لیے نہیں پوری دنیا کے لیے غیر متوقع ہے جس نے ماضی میں وباؤں پر کنٹرول کے حوالے سے تجربات کو ناکام کر دیا ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے فیصلوں میں تبدیلی بدلتے ہوئے مشاہدات کے سبب ہے۔وباء سے انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے معاشی نقصانات پر کنٹرول ضروری ہے۔

کاروبار کی پابندی اور روزگار کی عدم موجودصرف صوبے میں وسائل کی کمی کا سبب نہیں بنے گی اس سے لوگوں کی ذاتی زندگیاں بھی متاثر ہوں گی۔ مخالفین سیاسی مفادات کے لیے عوام کو گمراہ کرنے کی بجائے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے کورونا سے تحفظ کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد کی ترغیب دیں۔