مرزا اسداللہ غالب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797- 1869) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے

مرزا اسداللہ غالب

تالیف :

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797- 1869) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

پیدائش

مشہور قول کے مطابق غالب 27 دسمبر 1797ءکو کالا محل آگرہ میں مرزا عبداللہ بیگ خاں کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1802میںء مرزا اسداللہ خاں غالب کے والدِ محترم مرزا عبداللہ بیگ خاں راج گڑھ کی جنگ میں گولی لگنے سے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ 1810،اگست 9 کو نواب احمد بخش خاں کے چھوٹے بھائی الٰہی بخش خاں معروف کی 11 سالہ صاحبزادی امراو بیگم سے مرزا اسداللہ خاں غالب کی شادی ہوئی. جب غالب کی عمر صرف 13 سال تھی۔ 1813ءمیں مرزا اسداللہ خاں غالب آگرہ سے دہلی منتقل ہوگئے۔ غالباَ1868کے آخر میں یا 1869کے آغاز میں مرزا غالب بیمار ہو گئے14فروری 1869کو بیماری سے کچھ افاقہ ہوا تو کھانے کی خواہش کا اظہار فرمایا - پھر ملازم سے کہا کہ مرزا جیون بیگ (یعنی مرزا باقر خاں کامل کی سب سے بڑی صاحبزادی ) کو بلاو - نوکر نے آکر بتایا کہ وہ سو رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ جب وہ آئے گی تو تب میں کھانا کھاوں گا - اس کے بعد جونہی گاوتکیے پر سر رکھا بے ہوش ہوگئے- فوراّ حکیم محمود خاں اور حکیم احسن اللہ خاں کو اطلاع دی گئی- انہوں نے تشخیض کی کہ دماغ پر فالج گرا ہے۔1869ء ، فروری 15 کا دن ... اس کے بعد ... انہیں پھر ہوش نصیب نہ ہوا - آخرکار... مرزا اسداللہ خاں غالب ... زندگی کی بازی دہلی میں ہار گئے ... انا للہ و انا الیہ راجعون 1869ء ، مارچ ، 6 ، اردوئے معلٰی (رقعات) شائع ہوئی۔ سات بچے بچیوں کی ولادت ہوئی لیکن کوئی بھی 15 ماہ سے زیادہ عمر نہ پا سکا 1870ء ،فروری 4 غموں اور سر پر چڑھے قرضوں سے نڈھال ، غالب کی پہلی برسی کی تیاریوں میں مصروف ،ان کی بیگم بھی اللہ کو پیاری ہو گیئں ... انا للہ و انا الیہ راجعون۔

غالب کی پسندیدہ خوراک

نہار منہ باداموں کی ٹھڈائی سے دن کا آغاز کرتے تھے۔ دوپہر اور رات کے کھانے میں گوشت کا ناغہ نہیں ہوتا تھا گوشت میں چنے کی دال بہت ہی پسند تھی جس کو شادی کے بعد چونکہ بگیم کو پسند نہیں تھی اس لئے اس کو چھوڑنا پڑا۔ بکرے اور دمبے کا گوشت ،پرندوں میں مرغ ،کبوتر اور بٹیر بہت پسند تھے۔ پھلوں میں انگور اور آم پسند تھے - ایک دفعہ آم کے موسم میں نواب علاءالدین احمد خاں نے انہیں لوہارو آنے کی دعوت دی تو انہوں نے مذاق میں لکھا کہ میں اندھا ہوں کہ اس موسم میں دہلی چھوڑ کر لوہارو جاوں- اس ویرانے میں نہ آم نہ انگور نہ کوئی اور لطف نا صاحب ! آج کل نہیں آ سکتا۔

ادبی زندگی

شاگردی ، پہلے استاد تو مدرسے کے مولوی محمد معظم تھے دوسرے استاد ایرانی فارسی شاعر ملا عبدالصمد (جنہیں غالب نے دو سال تک اپنے گھر پر بھی ٹھہرایا) تھے۔ دہلی میں پہلی ادبی رشتے داری اور دوستی ، غالب کے سسر الٰہی بخش خاں معروف جو خود فارسی اور اردو کے شاعر تھے انہی کے پاس مولوی فضل حق خیرآبادی بھی آتے رہتے تھے ان کے ساتھ غالب کی گہری دوستی ہوگئی۔ تخلص پہلے اسد پھر غالب منتخب کی۔

حالاتِ زندگی

جس زمانے میں مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا اور مشرقی تہذیب کا آفتاب غروب ہونے کو تھا اس وقت شعر و ادب کی دنیا میں چند ایسی شمعیں روشن ہوئیں۔ مرزا اسداللہ خان غالب اسی عہد کے سب سے نامور شاعر تھے۔ان کے دم سے اردو شاعری کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہوگیا۔پروفیسر آل احمد سرور کے قول کے مطابق” غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی، غالب نے اسے ذہن دیا”انھوں نے غزل میں نئے موضوعات اور نئے مضامین داخل کرکے اس کا دامن وسیع کردیا۔ مرزااسداللہ خان نام اور غالب تخلص تھا۔مشہور محقق مالک رام نے "تذکرہ ماہ و سال” میں غالب کی تاریخ پیداءش 27 دسمبر 1797ءبمطابق 8 رجب 1212ھ لکھی ہے اور یوسف حسین خان بھی " غالب اورآھنگ غالب” میں ان کی تاریخ ولادت 27 دسمبر 1797ءبتاتے ہیں۔جبکہ رام بابو سکینہ "تاریخ ادب اردو” میں مرزا کا سال ولادت 1796ءقرار دیتے ہیں۔ مرزا غالب کا خاندانی سلسلہ بقول رام بابو سکینہ”اےبک ترکمانوں، جو وسط ایشیا کے رہنے والے تھے۔ مرزا کے دادا سب سے پہلے ہندوستان آئے اور شاہ عالم بادشاہ کے دربار میں عزت پائی۔ غالب کے والد عبداللہ بیگ خان نے ایک متلون زندگی بسر کی۔کچھ دنوں دربار اودھ میں رہے پھر حیدرآباد آگئے جہاں نواب نظام علی خان بہادر کی سرکار میں 300 سوار کی جمیت میں ملازم رہے۔کئی برس بعد گھر آئے اور علور کے راجہ بختاور سنگھ کی ملازمت اختیار کی اور یہاں کسی سرکش گھڑی کی لڑائی میں مارے گئے۔ڈاکٹر یوسف حسین خان کے بیان کے مطابق وہ راجگڑھ میں ہی دفن ہوئے ۔راجہ بختاور سنگھ نے عبداللہ بیگ خان کے دونوں لڑکوں مرزا اسداللہ خان غالب اور مرزا یوسف بیگ خان کے گزارے کے لیے روزینہ مقرر کردیا اور دو گاوں ان کے نام کر دئیے۔ مرزا عبداللہ بیگ کے انتقال کے وقت غالب کی عمر پانچ سال کی تھی۔ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے غالب اور ان کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف کو اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ مرزا غالب ابھی صرف نو سال کے ہی تھے کہ ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ کا بھی انتقال ہو گیا اور اب ان کے نانا خواجہ غلام حسین خان جو کہ فوج کے کمیدان اور آگرہ کے مشہور رئیس تھے،کے یہاں مرزا غالب کی پرورش ہونے لگی۔ مرزا غالب کے چچا چونکہ انگریزی فوج میں رسالدار تھے،اس لیے حسن خدمات اور وفاداری کے صلہ میں انگریز سرکار سے جاگیر بھی پائی تھی اور ان کے انتقال کے بعد مرزا غالب کو انگریزی جاگیر کے عوض انگرےز سرکار سے پینشن بھی ملتی رہی۔

مرزا کا بچپن بقول رام بابو سکینہ”آگرہ میں گزرا جہاں وہ ایک کہنہ مشق استاد شیخ معظم علی سے تعلیم پاتے رہے اور کہا جاتا ہے کہ اسی زمانے میں مشہور شاعر نظیر اکبر آبادی سے بھی کچھ ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں۔جب ان کی عمر 14 برس ہوئی تو ہرمز نام کے ایک پارسی سے سے فارسی پڑھی” مرزا غالب کی شادی نواب الہی بخش خان معروف کی بیٹی امراءبیگم کے ساتھ 1810ءمیں ہوئی جب مرزا کی عمر محض 13 سال کی تھی۔نواب الہی بخش خان معروف چونکہ شاعر تھے لہذا مرزا غالب کو بھی ادبی ماحول میسر آیا۔ مرزا پہلے اسد تخلص کرتے تھے بعد مےں غالب ہوگئے۔ان کا بچپن اور لڑکپن کا زمانہ عیش و آرام میں گزرا لیکن شادی کے بعد حالات دگرگوں ہوگئے۔ غالب حالات سے مجبور ہو کر دلی منتقل ہوگئے اور پھر ہمیشہ یہیں کے ہو کے رہ گئے۔دلی کی فضا میں بقول رام بابو سکینہ”شاعری گونج رہی تھی،جگہ جگہ مشاعرے ہورہے تھے، شادی بھی ایک مشہور و معروف شاعر کی بیٹی کے ساتھ ہوئی تھی،ان سب اسباب سے نوعمر غالب کی نوخیز طبیعت پر شاعری کا گہرا اثر پڑا”

مرزا غالب ہمیشہ دہلی میں ہی رہے سوائے ایک کلکتہ کے سفر کے جو انھوں نے 1828ءمیں کیا تھا،یہ سفر پنشن کی بحالی کی خاطر تھا، وہ پنشن جو ان کوانگرےز سرکار کی جانب سے چچا مرزا نصر اللہ بیگ کی جاگیر کی ضبطی کے عوض میں ملتی تھی۔ یہ پنشن گو کہ بحال تو نہ ہوئی تاہم مرزا نے مختلف علاقوں کی سیر کر لی۔بقول رام بابو سکینہ”کلکتہ کے راستے میں مرزا نے لکھنو¿ اور بنارس کی بھی سیر کی تھی اور ایک قصیدہ نصیرالدین حیدر شاہ بادشاہ اودھ کے واسطے اور ایک نثر وزیر سلطنت کی مدھ میں پیش کی تھی۔آخری تاجدار خود واجد علی شاہ کی سرکار سے بھی 500 روپیہ سالانہ ان کے واسطے مقرر ہوئے تھے مگر دو برس کے بعد جب سلطنت کا تنازعہ پیدا ہوا تو وہ موقوف ہوگئے۔1842ءمیں غالب کو دہلی کالج میں پروفیسر کے لیے منتخب کیا گیا مگر چونکہ ٹامسن صاحب جو کہ اس وقت سیکرٹری گورنمنٹ تھے، غالب کے استقبال کے لیے نہیں آئیے اس لیے انھوں نے ملازمت قبول نہ کی۔ 1849ءمیں بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے انکو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا کیا اور مزید یہ کہ ان کو 50 روپے مہینہ کے صلہ میں "تاریخ خاندان تیموریہ” لکھنے کا بھی حکم دیا۔1854ءمیں شیخ ابراہیم ذوق کے انتقال پر غالب بادشاہ حضور کے استاد مقرر ہوئے۔ غالب نوّاب یوسف علی خاں والیءرامپور کے استاد بھی تھے جو ان کو سو روپے ماہوار بطور پنشن کے عمر بھر دیتے رہے۔ غالب کا انتقال 15 فروری 1869ءکو 72 برس چار ماہ بمقام دہلی ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔