دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے سے قبل تربیتی کیمپ

 دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے سے قبل تربیتی کیمپ

 لاہور: دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کیلیے منتخب پاکستانی وائٹ بال اسکواڈ میں شامل کرکٹرز اور معاون اسٹاف ارکان کی پہلی کورونا ٹیسنگ گھروں میں ہی ہوئی تھی، ان میں سے صرف حسن علی کی رپورٹ مثبت آئی، پیسر اب کلیئرنس پر ہی اسکواڈ کو جوائن کرسکیں گے۔گذشتہ روز دیگر تمام کھلاڑیوں اور معاون اسٹاف ارکان نے لاہور کے ہوٹل میں رپورٹ کر دی، یہ سب ماسک پہن کر آئے، بائیو سیکور ببل میں جانے سے قبل دوسری کورونا ٹیسٹنگ بھی مکمل ہو گئی،رپورٹ جمعے کو موصول ہوجائی گی کلیئر ہونے والے کھلاڑی اور معاون اسٹاف ارکان قذافی اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے تربیتی کیمپ کا حصہ ہوں گے،ٹریننگ کا آغاز دوپہر ایک بجے ہوگا،پی ایس ایل ملتوی ہونے کے بعد سے فارغ کھلاڑی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی صلاحیتوں پر لگا زنگ اتارنے کیلیے سرگرم ہوں گے۔

قذافی اسٹیڈیم میں تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں،جنوبی افریقی کنڈیشنز کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند پچز پر گھاس بھی چھوڑ دی گئی، میدان کے وسط میں پی ایس ایل میچز کیلیے پچز تیار کی گئی تھیں،ایونٹ ملتوی ہوچکا۔

مجوزہ شیڈول کے مطابق جون میں تمام مقابلے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہونا ہیں، اس لیے انٹرا اسکواڈ میچز اور پریکٹس کیلیے تروتازہ ٹریکس دستیاب ہوں گے، ٹریننگ کے دوران بائیو سیکیورٹی یقینی بنانے کیلیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔دوسری جانب تربیتی کیمپ میں 7اضافی کھلاڑیوں کو طلب کرلیا گیا، عماد بٹ، خوشدل شاہ، محمد عمران، فیصل اکرم، نسیم شاہ، شاہنواز دھانی اور زاہد محمود قومی اسکواڈ کے بائیوببل کا حصہ بن چکے، یہ تمام قومی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کی زیرنگرانی ٹریننگ کرنے کے ساتھ انٹرا اسکواڈ میچزکی ٹیموں کا حصہ بھی بنیں گے،ان میں سے شاہنواز دھانی اور زاہد محمود دورہ زمبابوے کیلیے اعلان کردہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں بھی شامل ہیں۔دوسری جانب سلیکشن کمیٹی نے اعظم خان اور صہیب مقصود کو بھی نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور طلب کرلیا، یہ دونوں کرکٹرز بائیوببل کا حصہ نہیں ہیں،البتہ این ایچ پی سی کے کوچز کی زیرنگرانی ٹریننگ سے فٹنس کا معیار بہتر بنانے کیلیے سرگرم ہوں گے۔

علاوہ ازیں ہائی پرفارمنس سینٹر میں ایک تربیتی کیمپ 26مارچ کو قومی اسکواڈ کی جنوبی افریقہ روانگی کے بعد بھی لگایا جائے گا، اس میں ان کھلاڑیوں کو طلب کیا جائے گا جو حال ہی میں قومی ٹیم سے ڈراپ ہوئے یا مستقبل کی ٹیموں کیلیے امیدواروں میں شامل ہیں۔