ڈاگ برتھ کنٹرول پالیسی کے حوالے سے مشاورتی اجلاس

جانوروں سے پھیلنے والی متعدی بیماریاں ایک بڑاچیلنج ہے:سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب

 ڈاگ برتھ کنٹرول پالیسی کے حوالے سے مشاورتی اجلاس

لاہورر: ڈاگ برتھ کنٹرول پالیسی کے حوالے سے مختلف ممالک کے ماڈلز کو مدنظررکھاجائے۔ یہ بات سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے ڈاگ برتھ کنٹرول پالیسی کے سلسلے میں ہونے والے مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔اس اجلاس کامقصد ون ہیلتھ اپروچ کواستعمال کرتے ہوئے باؤلاپن(ریبیز)جیسی موذی مرض کا تدارک ہے۔اجلاس میں ادارہ انسدادبے رحمی حیوانات،لوکل گورنمنٹ،محکمہ خزانہ،محکمہ قانون اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے نمائندگان نے بھرپورشرکت کی۔ ادارہ انسدادبے رحمی حیوانات کی آنریری سیکرٹری ڈاکٹرفرحت نذیراعوان نے شرکاء کو پالیسی ڈرافٹ پر بریفنگ دی۔اجلاس میں شرکاء کو بتایاگیاکہ دنیامیں باؤلاپن سے ہونے والی اموات میں سے 10فیصد صرف پاکستان میں ہوتی ہیں۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جانوروں سے پھیلنے والی متعدی بیماریاں ایک بڑاچیلنج ہے جس سے نبردآزماہونے کے لئے تمام محکموں خصوصاًمحکمہ صحت،محکمہ لائیوسٹاک اورمحکمہ ماحولیات کو مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب نے مشاورت کے بعد شرکاء کو قابل عمل پالیسی تیارکرنے پر زوردیا اورکہاکہ ریبیزجیسی موذی بیماری کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ کتوں کی مجموعی تعداد میں بھی کمی لائی جائے۔

انہوں نے مزید کہاکہ تمام ادارے اس اہم کام کے لیے اپناکرداراداکریں خاص طورپر محکمہ ہیلتھ میں موجود ریبیز سے متعلقہ اعدادوشمار کی مددسے لائحہ عمل طے کیاجائے۔ اس کے علاوہ دیگرممالک مثلاً سری لنکا،بنگلہ دیش اوربھارت میں موجود ماڈلز کابھی بغورجائزہ لیاجائے۔اجلاس کے شرکاء نے لاہورہائیکورٹ کی ہدایات کی روشنی میں برتھ کنٹرول پالیسی مرتب کرنے پراتفاق کیا۔