امریکی حکومت نے ایک بار پھر چینی ایپلی کیشنز ’وی چیٹ‘ اور ’ٹک ٹاک‘ کو سلسلہ وار بند کرنے کا اعلان کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات میں ٹک ٹاک کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ اپنے امریکی شیئرز 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا

امریکی حکومت نے ایک بار پھر چینی ایپلی کیشنز ’وی چیٹ‘ اور ’ٹک ٹاک‘ کو سلسلہ وار بند کرنے کا اعلان کردیا

امریکی حکومت نے ایک بار پھر چینی ایپلی کیشنز ’وی چیٹ‘ اور ’ٹک ٹاک‘ کو سلسلہ وار بند کرنے کا اعلان کردیا۔ ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ اگست میں 2 مختلف ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے وی چیٹ اور ٹک ٹاک کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات میں ٹک ٹاک کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ اپنے امریکی شیئرز 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا۔

اسی طرح وی چیٹ کو بھی بتایا گیا تھا کہ وہ بھی اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کو 45 دن میں فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بھی بند کردیا جائے گا۔ امریکی صدر کی دھمکی کے بعد متعدد امریکی کمپنیوں نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ کے امریکی اثاثے خریدنے کی دلچسپی بھی ظاہر کی تھی اور بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی کمپنیوں کو مزید 45 دن کی مہلت دی تھی۔ یعنی دونوں ایپلی کیشنز کو نومبر کے وسط تک اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرنے تھے، تاہم تاحال کسی بھی کمپنی کا وی چیٹ کا ساتھ کسی معاہدے کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔

لیکن ٹک ٹاک کے حوالے سے چند دن قبل خبر سامنے آئی تھی کہ شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن امریکی کمپنی اوریکل کے ساتھ پارٹنر شپ بنیادوں پر امریکا میں کام کرنے کے لیے رضامند ہوگئی۔ رپورٹس تھیں کہ ٹک ٹاک اور اوریکل امریکی صارفین کا ڈیٹا اور مواد مشترکہ طور پر دیکھیں گی اور اس حوالے سے کمپنیوں نے مذکورہ معاہدے کے دستاویزات 17 ستمبر کو امریکی کامرس ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائے تھے۔ دونوں کمپنیوں کی جانب سے کامرس ڈیپارٹمنٹ کو دستاویزات بھجوائے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ٹک ٹاک او اوریکل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے دستاویزات پر دسخط نہیں کریں گے۔