پاکستان کے حصول کا بنیادی مقصد اس ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا: اجمل چمیہ

یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا شامل ہے

پاکستان کے حصول کا بنیادی مقصد اس ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا: اجمل چمیہ

لاہور:صوبائی وزیر برائے چیف منسٹر معائنہ ٹیم اجمل چمیہ نے یونیک گروپ آف کالجز کے طلباء سے خطاب کرتے ہو کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ یونیک گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کی سیشاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری کو نوجوان نسل میں روشناس کروانے کے لیے مقابلہ کلام اقبال کا انعقاد کیا گیا ہے۔ایسی تقریبات نا صرف ہمارے قائدین کے نام اور ان کی قربانیوں کو زندہ رکھتی ہیں بلکہ اس سے نوجوان نسل میں اپنے قائدین کے افکار اور ان کی جدوجہد کو جاننے میں بھی مدد ملتی ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ علامہ اقبال کا شمار ناصرف پاک و ہند بلکہ پوری دنیا کے شعرا ء کرام میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے مستقبل سے متعلق جو تصور پیش کیا اس کے باعث آج بر صغیر کے مسلمان ایک علیحدہ مملکت میں آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں۔

اقبال نے جو فلسفہ پیش کیا ا نہوں نے اسے اپنی شاعری اور تصورات کا حصہ بنایا۔ قائد اعظم  نے اقبال کے فلسفے کو عملی شکل دینے کے لیے جس جدوجہد کا آغاز کیا وہ بالآخر اگست 1947 میں مکمل ہوئی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے حصول کا بنیادی مقصد اس ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا لیکن بدقسمتی سے 73برسوں میں قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے جانے کے بعد قیادت کے فقدان کے باعث یہ خواب ادھورا ہی رہا اور پاکستانی عوام کے سامنے کوئی درست سمت نہ ہونے کے باعث عوام بھی انتشار کا شکار رہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا شامل ہے اور وزیر اعظم عمران خان کا یہ وعدہ ہے کہ وہ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب پورا کریں گے۔ اجمل چمیہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن میں معاشی اور سیاسی چیلنجز کے علاوہ سماجی چیلنج بھی درپیش ہے۔

ہم جب تک ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہو کر اپنی قیادت کے فیصلوں کا احترام نہیں کریں گے تو ہمارے لیے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا آسان نہ ہو گا۔ پاکستان کو سماجی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق  اپنے سماجی امور کو مرتب کرنا ہوگا جس سے نا صرف پاکستان جدید فلاحی ریاست بن سکے گا بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہو جائے گا۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال بھی پاکستان کو جدید مملکت بنانے کے خواہاں تھے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ملک کو جدید فلاحی ریاست بنا کر ترقی کی راہوں پر گامزن کر سکیں۔ آخر میں  صوبائی وزیر نے ایک مرتبہ پھر یونیک گروپ آف انسٹی ٹیوشنزکا اس پُر وقار تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتی ہوں۔اور اس تقریب میں صوبائی وزیر اجمل کے ساتھ  پروفیسر عبدالمنان خرم, انجم وحید, امجد علی خان اور وسیم انور چوہدری بھی ہمراہ تھے۔