محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے2ارب 20کڑوڑ روپے کا اضافہ یقینی بنایا

پنجاب ریونیو اتھارٹی نے بجٹ 2020-21میں تخمینہ شدہ محصولات کا 60فیصد، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے53فیصد اور بورڈ آف ریونیو نے 48فیصد اکٹھا کیا

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے2ارب 20کڑوڑ روپے کا اضافہ یقینی بنایا

لاہور: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے اپنے ذاتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس کی ڈیمانڈ میں 2ارب 20کڑوڑ روپے کا اضافہ یقینی بنایا۔رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ میں صوبے کے ذاتی محصولات میں 9فیصد اضافہ ہوا۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے بجٹ 2020-21میں تخمینہ شدہ محصولات کا 60فیصد، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے53فیصد اور بورڈ آف ریونیو نے 48فیصد اکٹھا کیا۔ پی آر اے اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں وصولیوں کی شرح نمو مثبت جبکہ بورڈ آف ریونیو میں منفی رہی۔ کورونا کے باعث معاشی سرگرمیوں میں کمی نے وصولیوں کی شرح کو متاثر کیا۔

ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے وزراتی کابینہ کمیٹی برائے ریسورس موبلائزیشن کے چوتھے اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ ٹیکسز کی شرح میں کمی کے باوجود پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسزمیں 45فیصد اضافہ ہوا۔ موٹر وہیکل رجسٹریشن میں 46فیصد بہتری آئی۔ غیر منقولہ شہری جائیداد، فارم ہاؤسز اور لگژری ہاؤسزپر ٹیکس کی مد میں تخمینہ شدہ محصولات کا63فیصد اکٹھا کیا جا چکا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پراپرٹی ٹیکس کی ڈیمانڈ میں تاریخی اضافے کے لیے مبارکباد کا مستحق ہے۔ اجلاس کے دیگر شرکاء میں صوبائی وزیر برائے محصولات ملک انور، سیکر ٹری خزانہ، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ممبر بی او آر، چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب اربن یونٹ،چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹس کے متعلقہ افسران شامل تھے۔

صوبائی خزانہ نے بورڈ آف ریونیو کے تحت وصولیوں کی شرح پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمے کو ہدایت کی کہ وہ ایگریکلچر انکم ٹیکس کی وصولیوں کو بہتر بنائیں۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نمبر پلیٹس کے اجراء اورپنجاب میں چلنے والی گاڑیوں کی پنجاب میں رجسٹریشن کو یقینی بنائے۔ گاڑیوں کی صوبے میں رجسٹریشن کے لیے فیس کی شرح پر نظر ثانی کی جائے۔ پراپرٹی ٹیکس کے لیے سرویز کی رفتار تیز کی جائے تاکہ آئندہ مالی سال میں نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی انفراسٹریکچر ڈویلپمنٹ سیس سے متعلق معاملات کے حل کے لیے صنعتوں پر اثرات کا تخمینہ لگوائے۔ سیکرٹری فنانس نے اجلاس کو ریسورس موبلائزیشن کمیٹی کے پہلی تین نشستوں میں اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ واسا کو خود کفیل بنانے کے لیے تشکیل شدہ بزنس ماڈل کابینہ سے منظوری کے لیے ارسال کیا جا چکا ہے جس کے تحت تین سال بعد سبسڈی کی مد میں 6.2ارب روپے کی بچت ممکن ہو گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں ای خدمت سینٹرز کے لیے بھی خود کفالتی ماڈل کی اصولی منظوری لے لی گئی ہے۔ غیر منقولہ شہری جائداد پر ٹیکس میں اصلاحات کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دیا جا چکا ہے پرانے ویلیوایشن ماڈل کے متبادل نیا ماڈل متعارف کروائے گا۔ ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے بلدیاتی اداروں میں منفعت بحش ٹیکسیشن (benefit taxation)کا تصور متعارف کروایا جا رہا ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کی وصولیوں کے میکانزم کو بہتر بنایا جا رہا ہے