محکمے کو اثاثوں کی منتقلی کا فیصلہ صاف پانی کمپنی کی تحلیل کے بعد قانون کے مطابق لیاجائے گا

عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے کمپنی کے تحت لگائے گئے 116فلٹریشن پلانٹس کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تحت جلد ازجلدفعال کیا جائے

 محکمے کو اثاثوں کی منتقلی کا فیصلہ صاف پانی کمپنی کی تحلیل کے بعد قانون کے مطابق لیاجائے گا

لاہور:عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے کمپنی کے تحت لگائے گئے 116فلٹریشن پلانٹس کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تحت جلد ازجلدفعال کیا جائے۔ محکمے کو اثاثوں کی منتقلی کا فیصلہ صاف پانی کمپنی کی تحلیل کے بعد قانون کے مطابق لیاجائے گا۔ پنجاب یونیورسٹی میڈیکل کالج کے قیام اور اس سے منسلک ہسپتال کی تعمیر کے لیے پنجاب یونیورسٹی اور محکمہ صحت کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔

ملتان اور بہاولپور میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے تحت دفاتر کے قیام سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جامع پروگرام ترتیب دیا جائے۔ پنجاب انفراسٹریکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سرکاری عمارات کی تعمیر کے لیے کمیونیکشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کو تکنیکی معاونت کی فراہم کرے۔ محکمہ خزانہ اورپلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں پبلک فنانس مینجمنٹ یونٹ کے قیام کے لیے سٹینڈنگ کمیٹی کے تحفظات کی دورکیے جائیں۔  

وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی جانب سے یہ ہدایات آج وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے 37ویں اجلاس کی صدارت کے دوران دی گئیں۔ صوبائی وزیر نے چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو تاکید کی کہ وہ اپنی قیادت میں پنجاب انفراسٹریکچر اتھارٹی اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دیں جو سرکاری سکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے اُصول وضع کرے تاکہ مستقبل میں توانائی کی بچت کے لیے ماحول دوست عمارات کی تعمیر کو یقینی بنایا جا سکے۔

سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے 9سے زائد سفارشات پیش کی گئیں جن میں چکوال کے مختلف علاقوں میں سوئی گیس کی فراہمی کے لیے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے اطلاق، ملتان اور بہاولپور میں ساؤتھ پنجاب سیکرٹریٹ کے تحت سرکاری دفاتر کی تعمیر، محکمہ خزانہ کے تحت پبلک فنانس مینجمنٹ یونٹ کے قیام، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت واٹر پلانٹس کی فعالیت اور مرمت، پنجاب انفراسٹریکچر اتھارٹی میں خالی اسامیوں پر بھرتی اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 4,707 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری شامل تھیں۔ کمیٹی میں پنجاب انفراسٹریکچر اتھارٹیوں میں بھرتی، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے گرانٹ کی منظوری، واٹر پلانٹس کی فعالیت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے سفارش کردہ اطلاق کی منظوری کے ساتھ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے تحت ملتان اور بہاولپور میں دفاتر کے قیام اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے تحت پبلک فنانس مینجمنٹ یونٹ کے قیام کا اُصولی فیصلہ لیا گیا۔

مشیر برائے اقتصادی امور نے ڈاکٹر سلمان شاہ نے پبلک فنانس مینجمنٹ سسٹم کی اصلاح کے لیے اخراجات کے تناسب سے محکموں کی کارکردگی کے جائزے جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق کی جانب سے محکمہ قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پیپرا کی استعداد کار میں اضافے اور پبلک فنانس مینجمنٹ یونٹ کے حجم کو کم سے کم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ صوبائی وزیر نے محکمہ خزانہ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ پبلک فنانس مینجمنٹ سسٹم کے تحت منصوبہ جات کی مالی منصوبہ بندی کے دوران اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ حقیقت میں بھی منصوبہ جات کا وہی فنانشیل ماڈل اختیار کیا جائے جو کاغذوں میں درج ہو تا کہ مستقبل میں کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔