لاہور:   پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت جولائی ہواؤں کے رخ کے ساتھ ٹڈی دل کی آمد پر کنٹرول کے لیے چولستان میں آپریشن کی تیاریاں مکمل

نومبر، دسمبر میں شدید حملے سے نمٹنے کے لیے نیشل ایکشن پلان کے تحت 24ارب کی لاگت سے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے مون سون میں سیلاب کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام اضلاع میں امدادی کاروائیوں کے لیے فرضی مشقوں کا آغاز کر دیا گیا ہے

لاہور:   پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت جولائی ہواؤں کے رخ کے ساتھ ٹڈی دل کی آمد پر کنٹرول کے لیے چولستان میں آپریشن کی تیاریاں مکمل

لاہور:   پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت جولائی ہواؤں کے رخ کے ساتھ ٹڈی دل کی آمد پر کنٹرول کے لیے چولستان میں آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ نومبر، دسمبر میں شدید حملے سے نمٹنے کے لیے نیشل ایکشن پلان کے تحت 24ارب کی لاگت سے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ مون سون میں سیلاب کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام اضلاع میں امدادی کاروائیوں کے لیے فرضی مشقوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تمام اضلاع کو ابتدائی طور پر ایک،ایک کڑوڑ  روپے کے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں جو بوقت ضرورت بڑھا دئیے جائیں گے۔ پی ڈی ایم اے کو احساس ایمرجنسی پروگرام سے قبل قرنطینہ سینٹرز میں لائے جا نے والے زائرین میں راشن کی تقسیم کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جسے خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا گیا۔ پنجاب میں احساس ایمرجنسی کے تحت4 مراحل میں امدادی رقوم کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔جس سے55لاکھ خاندان مستفید ہو چکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میاں خالد محمود نے آج پی ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹر کے دورہ کے موقع پر میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کورونا صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کے لیے معمہ بنا ہواہے۔وباء کب ختم ہو گی اس بارے میں کوئی بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہ سکتا۔ لوکسٹ پر کنٹرول کے لیے پی ڈی ایم اے کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر پنجاب حکومت کی جانب سے لوکسٹ کے خلاف کامیاب کاروائیوں کے لیے 24اضلاع میں موضع کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں زمینداروں، کسانوں، پٹواریوں اور فیلڈ افسران کو شامل کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے پی ڈی ایم اے کی ایک اور کامیابی مقامی سطح پر مائیکرون مشینوں کی سستے داموں تیاری ہے۔ مائیکرون مشین جو 21لاکھ میں درآمد کی جا رہی تھی اب 3لاکھ میں بنوائی جا رہی ہے۔سپرے کے لیے ادویات اور مشینری کی ترسیل کے لیے گاڑیوں کی خریداری مکمل کی جا رہی ہے۔  ڈی جی پی ڈی ایم اے خرم بابر نے میڈیا کو بتایا کہ لوکسٹ کے پہلے حملہ میں ابتدائی طور پر نقصانات کا تخمینہ 2.6فیصد لگایا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی اعدادو شمار کا اعلان سروے رپورٹ کی تکمیل کے بعد کیا جائے گا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ لوکسٹ پر کنٹرول کے حوالے سے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی کو وفاقی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ بھی اپنے مشن میں کامیاب رہیں گے۔  میڈیاکو کورونا کے دوران  پی ڈی ایم اے کے تحت سرکاری اداروں میں حفاظتی کٹس اور دیگر سامان کی  ترسیل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔