نائجیریا میں رواں سال 23 لاکھ سے زیادہ افراد کوغذائی قلت اور عدم تحفظ کا شکار ہونے کا خدشہ ہے ، اقوام متحدہ

نائجیریا میں رواں سال 23 لاکھ سے زیادہ افراد کوغذائی قلت اور عدم تحفظ کا شکار ہونے کا خدشہ ہے ، اقوام متحدہ

ابوجا :اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق امور نے انکشاف کیا ہے کہ تنازعات ، خشک سالی اور سیلاب کی وجہ سےرواں سال نائیجیریا میں تقریبا 2. 23 لاکھ افراد کو غذائی قلت اور عدم تحفظ کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ مالی اور برکینا فاسو سرحد کے ساتھ واقع نائیجیریا کے تلبیری اور طاہو کے علاقوں میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

گزشتہ جمعہ اور پیر کے درمیانی شب مالی کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقے انزورو ضلع میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کے پرتشدد حملوں کے بعد ، تلبر ی کے مغربی علاقے میں 10ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں ۔اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا ہے کہ ملک میں تقریبا 3.8 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جن میں 2.1 ملین آبادی غیر محفوظ ہیں۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر کے مطابق نائیجیریا کی 60 فیصد آبادی روزانہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔

مغربی افریقہ کے ادارے اوپن سوسائٹی انیشیٹو نامی تنظیم کے مطابق تلبیری علاقہ نائیجیریا کا سب سے زیادہ پُرتشدد علاقےہے تاہم یہاں 75 فیصد چاول اور 18 فیصدجوار اور باغبانی ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مذ کورہ علاقے میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کی جانب سے پرتشدد حملوں کے نتیجے میں لاکھوں ڈالر کا کھڑی فصلوں کو نقصان بھی پہنچتا ہے جس کے باعث رواں سال 23 لاکھ سے زیادہ افراد کوغذائی قلت اور عدم تحفظ کا شکار ہونے کا خدشہ ہے