خاتون محتسب نے ہراسانگی شکایات سے متعلق حکمت عملی تشکیل دینے کے لئے ہراسانگی کمیٹی ممبرز کی ٹریننگ کا آغاز کر دیا

خواتین کی اس ایکٹ کے تحت فراہم کردہ قانونی حقوق سے ناواقفیت، معاشرتی ممنوعات اور ان کا نظام پر اعتماد نہ ہونا انہیں جنسی ہراسانی کے خلاف شکایت کرنے اور اپنے قانونی حقوق کو استعمال کرنے سے روکتا ہے

خاتون محتسب نے ہراسانگی شکایات سے متعلق حکمت عملی تشکیل دینے کے لئے ہراسانگی کمیٹی ممبرز کی ٹریننگ کا آغاز کر دیا

لاہور:صوبائی محتسب کا قیام کام کی جگہ پر ہراسانگی سے تحفظ کے قانون 2010 کے تحت عمل میں لایا گیا، خواتین کی اس ایکٹ کے تحت فراہم کردہ قانونی حقوق سے ناواقفیت، معاشرتی ممنوعات اور ان کا نظام پر اعتماد نہ ہونا انہیں جنسی ہراسانی کے خلاف شکایت کرنے اور اپنے قانونی حقوق کو استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز میں خواتین یا تو اس قانون سے مکمل طورپر لا علم ہے یا پھر اس قانون کے تحت بنائی گئی انکوائری کمیٹیوں کے اوپر عدم اعتماد کی وجہ سے وہ ادارے میں پیش آنے والے واقعات بارے شکایت کے اندراج سے خوفزدہ ہے۔

مختلف محکموں میں تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹیوں کا اس ایکٹ کے قانونی پہلو سے ناواقف ہونا ایک بڑی وجہ ہے کہ خواتین ادارے کی کمیٹی پر انحصار کرنے کے بجائے خاتون محتسب سے رابطہ کرتی ہیں۔انکوائری کمیٹیز کے کردار کو مزید فعال کرنے اور انہیں مکمل قانونی پہلوؤں سے آگاہ کرنے کے لئے خاتون محتسب نے ٹریننگ سیشنز کا آغاز کیا ہے۔ جس کے تحت خاتون محتسب اب تک پانچ ٹریننگ سیشن کا انعقاد کرچکا ہے۔جس میں ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب، ووکیشنل ٹریننگ سینٹر، ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پاکس، زکوۃ و عشر، لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، لمس یونیورسٹی، ہاوسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایس اینڈ جی اے ڈی ریگولیشن ونگ اور سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان سے انکوائری کمیٹی کے ممبر ٹریننگ میں حصہ لے چکے ہیں۔

تربیتی ورکشاپ میں قانونی ماہرین نے تمام ممبران کو ہراسانگی شکایات سے نمٹنے کے لئے اس ایکٹ کے تمام قانونی پہلوؤں سے متعلق آگاہ کیا نیز خاتون محتسب پنجاب نے مختلف کیس سٹڈیز کے ذریعے سے ان شکایات سے متعلق درجہ بدرجہ حکمت عملی سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ خاتون محتسب پنجاب رخسانہ گیلانی کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ محکمہ میں ہراسانگی سے تحفظ کے لیے مناسب اور جامع پلان ترتیب دیں۔ انہوں نے کہاں کے تمام انکوائری کمیٹیوں کو اپنا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے نیز کسی بھی قسم کی قانونی معاونت کے لیے خاتون محتسب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ خاتون محتسب کے مطابق ادارے کے قیام سے لے کر اب تک 376 شکایات موصول ہو چکی ہیں جن میں سے دو سو اٹھاسی کا فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔