جھوٹی خبریں پھیلانے والے پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں،جھوٹی خبروں کے خاتمے کے لئے قانون لایا جارہا ہے، فروغ نسیم

جھوٹی خبریں پھیلانے والے پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں،جھوٹی خبروں کے خاتمے کے لئے قانون لایا جارہا ہے، فروغ نسیم

اسلام آباد۔:وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ جھوٹی خبریں پھیلانے والے پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں، جھوٹی خبروں کے خاتمے کے لئے قانون لایا جارہا ہے، میڈیا تنقید کرنے میں آزاد ہے لیکن جھوٹی خبر نہیں ہونی چاہیے،جھوٹی خبر معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ اور پی ای سی اے (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ) کے دو آرڈیننس جاری ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب نئے آرڈیننس کے تحت 5 سال کی سزا ہوگی اور جعلی خبروں پر کسی کو چھوٹ نہیں ملے گی، یہ جرم ناقابل ضمانت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جعلی خبریں دنیا میں قابل سزا جرم ہے،جعلی خبریں معاشرے کے لیے خطرناک ہیں، جعلی خبروں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ پی ای سی اے کے تحت جعلی خبروں کا آرڈیننس قانون کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، لیکن کچھ لوگ ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں، میڈیا تنقید کرنے میں آزاد ہے لیکن جھوٹی خبر نہیں ہونی چاہیے ۔سینیٹر فروغ نسیم نے کہا کہ جھوٹی خبریں دینے والے لوگ ملک کے دوست نہیں ہیں، ایسے افراد کا کوئی ذاتی ایجنڈا ہوتا ہے یا وہ کسی کے اشارے پر ایسا کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے یہ قانون ضروری تھا،

جھوٹی خبر معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے، معاشرے کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جائے تو یہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ یہ قانون میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ آرڈیننس پر اپوزیشن قوم کو ورغلا رہی ہے۔ ایک سوال پر سینیٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور میں آرڈینس کی بھرمار تھی، اگر یہ غیر مناسب تھا تو اسے اٹھارھویں ترمیم میں سے کیوں نہیں نکالا گیا؟وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ججز کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلا کر ان کی شہرت خراب کی جارہی ہے،

ایسے معاملات کی روک تھام ضروری ہے۔   انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت ہر کسی کو کسی بھی امیدوار کی انتخابی مہم چلانے کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ پرانے قوانین میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امن و امان کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اور سندھ حکومت کو صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہوگا۔