نواب زادہ نصر اللہ خان

نواب زادہ نصر اللہ خان

وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں بہت سی شخصیات ایسی ہیں کہ جب کبھی پاکستان کی تاریخ لکھی جائے گی تو سیاسی تاریخ ان ہستیوں کے ذکر کے بغیر ممکن نہ ہوگی ۔ یوں تو آزادی کے زمانے سے آج تک بے شمار ایسے سیاست دان ہیں جن کے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ ادھوری ہی رہے گی لیکن آج ہم جس ہستی کا ذکر کررہے ہیں وہ ہیں نواب زادہ نصراللہ خان، جو یقیناً پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑا اور ہمیشہ زندہ رہنے والا نام ہے۔ اب آپ ان کے حالات زندگی دیکھیں اور اپنی قیمتی آراءسے ہمیں ضرور نوازیں۔

نوابزادہ نصراللہ خان کا تعلق بنیادی طور پر ملتانی پٹھانوں کی نورزئی شاخ سے تھا اور ان کے آبا و اجداد اٹھارویں صدی میں مظفر گڑھ کے علاقہ میں آباد ہوئے تھے۔ مظفرگڑھ سے تقریبا بیس کلومیٹر دور خان گڑھ کے علاقہ میں نوابزادہ کا آبائی گھر اور زرعی زمین واقع ہے۔ متحدہ ہندوستان میں انگریز حکومت نے نوابزادہ نصراللہ کے والد سیف اللہ کو انیس سو دس میں نواب کے خطاب سے نوازا اور گیارہ گاو¿ں الاٹ کیے تھے۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے اپنی خاندانی روایت سے انحراف کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کی بجائے اقتدار کی مخالفت کی سیاست کا آغاز کیا۔

انھو ں نے 1933ءمیں طالب علم کی حیثیت سے ہی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا اور اپنے خاندان کے بزرگوں کے برعکس حکمران جماعت یونینسٹ پارٹی میں شامل ہونے کی بجائے مسلمانوں کی جماعت مجلس احرار میں شمولیت کی۔ احرار کا نصب العین انگریزوں کا برصغیر سے انخلاءتھا۔ قیام پاکستان کے بعد نصراللہ خان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر متحرک ہوئے اور انھوں نے انیس سو اکیاون کے صوبائی انتخابات میں خان گڑھ کے دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔ تاہم جب مسلم لیگ حکومت نے شہری آزادیوں پر پابندیاں لگانی شروع کیں تو نصراللہ خان نے ان پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور پارٹی سے مستعفی ہو گئے۔

نصراللہ خان کی سیاست میں جمہوریت اور اسلام اہم عناصر رہے۔ انھوں نے ممتاز دولتانہ کی زرعی اصلاحات کی مخالفت میں پیر نوبہار شاہ کے ساتھ مل کر انجمن تحفظ حقوق زمینداران تحت الشریعہ بھی قائم کی ۔ انیس سو چھپن میں پاکستان کا پہلا دستور بنا تو نصراللہ خان اس کو بنانے والی دستور ساز اسمبلی کا حصہ تو نہیں تھے لیکن اس کے تحفظ کرنے والوں میں پیش پیش رہے۔ جنرل ایوب خان نے انیس سو اٹھاون میں فوجی راج قائم کیا تو نصراللہ خان کی سیاست کا سب سے سرگرم دور شروع ہوا۔

وہ اس وقت تک عوامی لیگ میں شامل ہوچکے تھے جس کے سربراہ حسین شہید سہروردی تھے۔ نصراللہ خان انیس سو باسٹھ کے بالواسطہ انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور ان کی کوششوں سے جنرل ایوب خان کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کا اتحاد ڈیموکریٹک فرنٹ (این ڈی ای) وجود میں آیا۔ وہ اس اتحاد کے کنوینر تھے اور ایوب خان کے بالواسطہ انتخاباتی نظام کے خلاف انیس چھپن کے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

1965ء کے صدارتی انتخاب میں میں نصراللہ خان نے بانی پاکستان کی بہن فاطمہ جناح کی حمایت میں حزب مخالف کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں ایک بار پھر اہم کردار ادا کیا۔ گو فاطمہ جناح ایک متنازع انتخابات میں ہار گئیں اور نصراللہ خان کو بھی قومی اسمبلی انتخابات میں شکست ہوئی لیکن پارلیمانی نظام کی بحالی کے لیے جمہوری تحریک زور پکڑتی چلی گئی۔

نصراللہ خان نے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات پیش کرنے کے بعد عوامی لیگ کا الگ دھڑا قائم کر لیا تھا لیکن ایوب خان کے فوجی راج کو ختم کرنے کے لیے انھوں نے شیخ مجیب کی جماعت سمیت تمام جماعتوں کو جمہوری مجلس عمل (ڈیک) کے اتحاد میں جمع کر لیا جس کی عوامی مہم کے دباو¿ میں ایوب خان نے سیاسی رہنماو¿ں سے بات چیت کے لیے گول میز کانفرنس منعقد کی۔ نصراللہ خان نے ایوب خان کے خلاف سیاسی اتحاد بنانے کا جو کام شروع کیا وہ مرتے دم تک ان کی پہچان بن گیا اور وہ متضاد سیاسی جماعتوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کرنے کے ماہر بن گئے۔ انھوں نے انھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حزب مخالف کی سیاست کی جن کی حکومتوں کوگرانے کا وہ باعث رہے۔ ان کے حامی انھیں بابائے جمہوریت کہتے تھے اور ان کے مخالفین کہتے تھے کہ وہ جمہوریت کے دور میں مارشل لگوانے کے لیے اور مارشل لا کے دور میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کام کرتے ہیں۔

انیس سو ستر کے انتخابات میں نصراللہ خان نے غلام مصطفے کھر کے ہاتھوں دو حلقوں میں شکست کھائی لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت بنی انھو ں نے پیر پگاڑا کی سربراہی میں حزب مخالف کو متحد کر لیا اور 1977ء کے انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی اور بھٹو کی زبردست مقبولیت کے سامنے نو جماعتوں کا قومی اتحاد تشکیل دے دیا۔

قومی اتحاد کی انتخابات میں دھاندلیوں کے الزام کے خلاف تحریک کا نتیجہ جنرل ضیا کے مارشل لا کی صورت میں نکلا تو چند سال بعد ہی نصراللہ خان نے پیپلز پارٹی کو اس کے زبردست مخالفین کے ساتھ بٹھا کر ضیاالحق حکومت کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کی بنیاد رکھ دی جس نے جنرل ضیا الحق کے خلاف 1983ء میں زبردست احتجاجی تحریک چلا کر فوجی رہنما کو ریفرنڈم کرانے اور1985ء کے انتخابات کرانے پر مجبور کر دیا۔

نصراللہ خان کی اتحادی سیاست جنرل ضیا کی موت کے بعد شروع ہونے والے جمہوری ادوار میں بھی چلتی رہی۔ انھوں نے پہلے بے نطیر بھٹو کی انیس سو اٹھاسی کے انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کو گرانے کے لیے کمبائنڈ اپوزیشن یا کوپ کے نام سے حزب مخالف کی جماعتوں کو اکٹھا کیا اور جب بے نظیر کی حکومت کو صدر اسحاق خان نے رخصت کر دیا تو 1990ء کے انتخابات کے بعد بننے والی نوازشریف کی حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی سے مل کر آل پارٹیز کانفرنس کی بنیاد رکھ دی۔

بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت واحد حکومت تھی جس میں نصراللہ خان نے حکومت میں شمولیت کی اور حزب اختلاف سے دور رہے۔ وہ اس دور میں قومی کشمیر کمیٹی کے چئیرمن بنے۔ جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کو صدر فاروق لغاری نے رخصت کیا تو نصراللہ خان ایک بار پھر نئے انتخابات کے بعد بننے والی نواز شریف حکومت کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ 12 اکتوبر کو جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نصراللہ خان کا بڑا کارنامہ دو دائمی حریفوں بے نظیر بھٹو او نواز شریف کو بحالی جموریت کی تحریک (اے آر ڈی) میں اکٹھا کرنا تھا۔ نصراللہ خان لاہو رمیں ریلوے اسٹیشن کے پاس نکلسن روڈ کے ایک سادہ سے کرائے کے مکان میں رہتے تھے جو ان کی جماعت کا صدر دفتر بھی تھا اور جس کے چھوٹے سے کمرے میں پاکستان کے بڑے بڑے سیاست دان سیاسی معاملات پر ان سے مشورے اور بات چیت کے لیے آتے۔

اپنے پچپن سال کے سیاسی کیریر میں نصراللہ خان عوام کے مقبول رہنما تو شاید نہیں بن سکے لیکن وہ رہنماو¿ں کے رہنما تھے۔ ہر وہ حکمران جس نے اقتدار میں ان کی مخالفت سے تنگ آکر ان کو برا بھلا کہا، اقتدار سے نکالے جانے کے بعد ان کے آستانے پر حاضری دیتا نظر آیا۔ جہاں تک ان کی شخصیت کا سوال ہے تو ہمیشہ صاف ستھری چمکتی ہوئی سفید شلوار قمیض میں ملبوس نصراللہ خان ایک دلآویز شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا دستر خوان وسیع تھا اور کھانے کے وقت ہر مہمان ان کے ساتھ ان کے کمرے میں ان کے ساتھ کھانا تناول کرتا تھا۔ ٹیلی وژن پر کرکٹ میچ دیکھنا، خبریں سننا اور اخبارات پڑھنا ان کے پسندیدہ مشاغل تھے۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے اور آخری وقت میں اپنی سیاسی یاد داشتیں لکھ رہے تھے۔