ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نفاذ بارے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ارکان کے مابین تنازع نےمابعد جنگ کثیر الجہتی انجن کو مفلوج کردیا

جوہری معاہدے جس سے امریکا دو سال قبل دستبردار ہوچکا تھا، اس معاہدے کی شرائط کے تحت گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ایران پر پابندیوں کے فیصلے کو30 روز بعد دوبارہ نافذ العمل ہوجانا چاہئے

ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نفاذ بارے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ارکان کے مابین تنازع نےمابعد جنگ کثیر الجہتی انجن کو مفلوج کردیا

ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نفاذ کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے مابین ہونے والے تنازع نےمابعد جنگ کثیر الجہتی انجن کو مفلوج کردیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جوہری معاہدے جس سے امریکا دو سال قبل دستبردار ہوچکا تھا، اس معاہدے کی شرائط کے تحت گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ایران پر پابندیوں کے فیصلے کو30 روز بعد دوبارہ نافذ العمل ہوجانا چاہئے۔

تاہم سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان چین، فرانس، روس اور برطانیہ کسی ایسے امریکی اقدام کی مخالفت کرتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ معاہدے سے نکل جانے کے بعد اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے کہ کون سا پہلو درست ہے، مستقل جمود کا خطرہ اور اصلاحات کے مطالبے میں وزن بڑھانا۔ یورپی مبصرین کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کے تنازع سے سلامتی کونسل کی ساکھ کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

 

اس سے قبل ترکی سے امداد کی فراہمی پر جولائی میں ویٹو عائد کرنے سمیت شام کی خانہ جنگ جیسے تنازعات پرروس اور چین کارروائی روک چکے ہیں ۔تاہم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایران کے تنازع جیسا کوئی معاملہ یاد نہیں ہے کہ جس میں سلامتی کونسل اس بارے میں فیصلہ کرنے سے قاصر ہو کہ آیا امریکا اقوام متحدہ کی پابندیوں کو معمول کی صورتحال پر واپس لاسکتا ہے یاتصادم کے خوف کے بغیر امریکا اور اس کے مخالفین دونوں کا فتح کا دعویٰ کرنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔

امریکی اقدام کے ایک سینئریورپی عہدیدار نے کہا کہ اس نے سلامتی کونسل میں ایک بہت بڑا فساد پیدا کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ایران کے معاملے سے کہیں آگے جاتے ہوئے منفی اثرات پیدا ہوں گے۔ کچھ مغربی مبصرین کو تشویش ہے کہ امریکا سزا کے طور پر دیگر اقدامات کی حمایت روک سکتا ہے اور متنبہ کیا کہ یہ تنازع روس اور چین کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایک مستقل جمود ایک حقیقی امکان کی طرح لگتا ہے۔