شاہ محمود، شاہ فرمان، محمود خان کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کا فیصلہ محفوظ

شاہ محمود، شاہ فرمان، محمود خان کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کا فیصلہ محفوظ

الیکشن کمیشن نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، سابق گورنر کے پی شاہ فرمان، وزیراعلی کے پی محمود خان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیسز کے فیصلے محفوظ کرلیے۔

الیکشن کمیشن میں وزیراعلی کے پی محمود خان، سابق گورنر شاہ فرمان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف صوبے کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیسز کی سماعت ہوئی۔

شاہ فرمان کی وکلا نے کہا کہ گورنر نے بلدیاتی انتخابات کے دوران کوئی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کیا، آرٹیکل 248 کے تحت گورنرز کے خلاف فوجداری یا سول مقدمات نہیں چل سکتے ، انہیں استثنیٰ حاصل ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وزیراعظم الیکشن مہم میں جاتا ہے گورنر بھی ساتھ ہوتا ہے گورنر تو غیر جانبدار ہوتا ہے۔

شاہ محمود قریشی کے وکیل نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں کسی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کیا، مالاکنڈ جلسے کے نوٹس پر ہم نے جواب جمع کرا دیا ہے۔

وزیر اعلی کے پی محمود خان کے وکیل نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن کی طرف سے آرڈر دیا گیا نوٹس نہیں ملا اور ہمیں سنے بغیر ہی جرمانہ کر دیا گیا،جبکہ دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے شاہ محمود، گورنر و وزیراعلی کے پی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیسز کے فیصلے محفوظ کرلیا۔