راولپنڈی میں پی پی آئی سی 3 3  پراجیکٹ شروع

لاہور:- کورونا کنٹرول و مانیٹرنگ ضلع راولپنڈی کے انچارج صوبائی وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے کہا ہے کہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تحت اس سال راولپنڈی میں پی پی آئی سی 3 Punjab Police Integrated Command )PPIC3)  پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے جس پر 923کروڑ روپے خرچ ہونگے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے راولپنڈی اور مری کے عوام کی جان و مال کو جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ بنانے میں بہت مدد ملے گی جبکہ آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں کو روزگار کے وافر مواقع بھی ملیں گے۔کورونا کی وجہ سے حکومتی وسائل میں بے حد کمی ہونے کے باوجودوفاقی حکومت کے شانہ بشانہ حکومت پنجاب صوبے میں عوام کو بنیادی ضروریات و سہولیات کی فراہمی پر بھر پور توجہ دے رہی ہے۔ خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم کا قلمدان سنبھالنے کے بعد میں نے اپنی قیادت کو اعتماد میں لے کر اس اہم شعبے کو ایک پراجیکٹ سے نکال کر اسے اس کی پوری اہمیت دی اور پنجاب بھر میں اس کے ڈائریکٹوریٹس بنا کر بہت سارے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ ن لیگ کی جھوٹ گھڑنے والی مشینیں رات دن سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع ابلاغ پر دروغ گوئی کے نئے نئے ریکارڈ بنا کر اپنی پارٹی کی موجودگی کا احساس دلانے میں جتے ہوئے ہیں جنہیں آ نے والے بلدیاتی الیکشن میں اپنی عوامی مقبولیت کا پتہ چل جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ٹی آئی پبلک سیکریٹریٹ سید پور روڈ راولپنڈی میں منعقدہ کھلی کچہری میں عوامی مسائل سننے اور ان کے حل کیلئے موقع پر احکامات جاری کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔راجہ راشد حفیظ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے شروع دن سے پالیسی اپنا رکھی ہے کہ اپوزیشن کے بے بنیاد پراپیگنڈے پر توجہ دینے اور بڑھکیں مارنے کی بجائے عملی کام پر توجہ دی جائے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کی قیادت میں وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے اور پنجاب میں سخت مالی مشکلات کے باوجود ترقیاتی منصوبوں میں کوئی کمی یا کٹ نہیں لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری وزارت نے پہلی مرتبہ غیر رسمی بنیادی تعلیم کو خانہ پری سے نکال کر اسے ترقی کے قومی دھارے میں اہم رول دیا ہے۔ ہم نے جیلوں میں لٹریسی سنٹرز بنانے کے علاوہ ایسے علاقوں میں بھی بنیادی تعلیم کی سہولیات دی ہیں جہاں اس سے پہلے کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ غیر رسمی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ریگولر سکولوں جیسی متعدد سہولیات بھی دینے کا آغاز ہو چکا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ نالہ لئی ایکسپریس وے اب سیاسی نعرہ نہیں رہا بلکہ ہم اس پر عملی کام کر رہے ہیں جس کی تکمیل سیاست کا رخ بدل دے گی۔ انہو ں نے کہا کہ میں ابھی ابھی کھلی کچہری کے دوران عوام کے مسائل سن کر فارغ ہوا ہوں مگر میرے ووٹرزمیں سے کسی نے آج تک ایسی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی جسے ناجائز سفارش کے زمرے میں رکھا جائے۔ کئی عشروں سے راسخ شدہ کرپشن کے نظام کو تبدیل کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے لیکن میں الحمدللہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اب اوپر کی سطح پر کرپشن ختم ہو چکی ہے. ہمارے کسی وزیر، مشیر یا ایم پی اے نے کسی بھی تھانے میں سفارشی اہل کار نہیں لگوائے نہ ہی ہم نے پٹواریوں کو تعیناتیاں دی ہیں۔ اس طرح کی سیاست ماضی کی حکومتوں کا حصہ تھی جسے ہم نے ختم کر دیا اور یہ بھی تبدیلی کا ایک حصہ ہے۔ راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ ن لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں نے جو کھربوں کی کرپشن کی ہے اس میں سے وہ پیسے لگا کر پی ٹی آئی کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ابلاغی ذرائع میں خفیہ محاذ چلا رہی ہیں جس کا مقصد بے بنیاد اور زمینی حقائق کے خلاف پراپیگنڈہ کرکے تحریک انصاف کی مقبولیت کو کم کرنا ہے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر کورونا ایمر جنسی کے دوران پی ٹی آئی کے سوا کسی بھی دوسری جماعت کی حکومت ہوتی تو اس نے عوام پر ٹیکسوں کا نیا اور ناقابل برداشت بوجھ لاد دینا تھا اور حالات انتہائی دگر گوں ہو چکے ہوتے۔ ہماری حکومت نے انتہائی مشکلات کے باوجود عوام کو ریلیف دیا اور پنجاب میں خاص طور پر پہلے سے نافذ 56 ارب روپے کے ٹیکس ختم کرکے ہماری حکومت نے عوام دوستی کا ثبوت دیا۔ راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ ہم راولپنڈی شہر کو ایک ماڈل سٹی بنائیں گے۔ نالہ لئی ایکسپریس وے سمیت دیگر توسیعی منصوبوں کی تکمیل پر ٹریفک کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔ اسی طرح صحت کی سہولیات کو زیادہ سہل اور ان کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں جو کرپشن کی نذر نہیں ہونگے بلکہ ان کے شفاف استعمال سے دور دراز دیہی علاقوں تک بھی عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات 24 گھنٹے اپنی دہلیز پر میسر ہونگی۔ اسی طرح تعلیم، بہبود نوجواناں و خواتین، پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت بنیادی ضروریات و سہولیات سے عوام کو بہرہ مند کرنے کیلئے متعدد منصوبے زیر عمل ہیں۔ اس سے قبل صوبائی وزیر نے حلقہ پی پی 16 اور دیگر حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو احکامات جاری کئے