تھائی لینڈ میں ہاتھی کھانے کی تلاش میں گھر کی دیوار توڑ کر کچن میں گھس گیا

تھائی لینڈ میں ہاتھی کھانے کی تلاش میں گھر کی دیوار توڑ کر کچن میں گھس گیا

بینکاک: تھائی لینڈ میں کھانےکی تلاش میں بھوکا ہاتھی ایک گھر کی دیوار توڑ کر باورچی خانے میں گھس گیا۔

برطانوی اخبار دی گارجیئن کے مطابق یہ واقعی مغربی تھائی لینڈ کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ شور شرابے اور دیوار ٹوٹنے کی آواز سن کے رٹچر وان نامی ایک رہائشی کی آنکھ کھل گئی، جب وہ اصل ماجرا دیکھنے کے لیے اپنے باورچی خانے میں گئے تو سامنے موجود منظر انہیں حیران کرنے کے لیے کافی تھا کیوں کہ ایک ہاتھی ان کے باورچی خانے کی دیوار توڑ کر بن بلائے مہمان کی طرح اپنی سونڈ  سے درازوں میں کچھ تلا ش کر رہا تھا۔

رٹچر کا کہنا ہے کہ بون چوائے نامی یہ ہاتھی شاید کچھ کھانے کے لیے تلاش کر رہا تھا کیوں کہ وہ باورچی خانے کی درازوں سے چیزیں باہر نکال کر پھینک رہا تھا، اس نے برتن اور دیگر سامان کو بھی درازوں سے نکال کر فرش پر پھینک دیا تھا۔ اور آخر میں نے اس پلاسٹک کی تھیلیوں کو چبانا شروع کردیا۔ رٹچر نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بنا لی۔

اس واقعے کے بارے میں  کائینگ کراچین نیشنل پارک کےمنتظم اتھیپون تھائی مونکول کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نینشل پارک میں رہنے والے ہاتھی بون چوائے نے کھانے کی تلاش میں قریبی دیہات کا رخ کیا ہو، اس سے قبل بھی وہ رٹچر کے گاؤں میں گھس چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق  بون چوائے کا رٹچر کے باورچی خانے کا دورہ انہیں کافی مہنگا پڑا ہے اور تقریبا 50 ہزار بھات کا نقصان ہوا ہے۔

تھائی لینڈ میں ہاتھیوں پر تحقیق کرنے والے محقق ڈاکٹر جوشوا پلاٹنک کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک میں رہنے والے ہاتھیوں کے لیے قریبی دیہاتوں میں گنے اور بھٹے کی فصلوں پر حملہ بہت عام بات ہے اور یہ زیادہ تر رات میں کھیتوں پر حملہ کرتے ہیں، تاہم بہت سے دیہاتی ہاتھیوں کے لیے عقیدت اور ہمدردی رکھنے کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے لیکن وہ اس مسلئے کا دیرپا حل چاہتے ہیں۔ مقامی کمیونٹی اور نیشمل پارکس کے رضاکار عموما انہیں جنگلوں میں واپس بھیجنے کے لیے تیز شور پیدا کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ چین میں بھی حال ہی میں ہاتھیوں کا ایک جھنڈ سامنے آیا ہے جو کہ گزشتہ 15 ماہ سے  کسی نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہے اور اپنے راستے میں آنے والی گنے اور بھٹے کی فصلوں کو تباہ کرچکا ہے، جب کہ حکام اس جھنڈ کے سفر کو ٹریک کرنے کے لیے ڈرون اور مقامی لوگوں کی مدد سے نگرانی کر رہے ہیں تاہم اس جھنڈ کے مستقل سفر کرنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔