ایکسپو سینٹر لاہور کاکرونا ویکسینیشن سینٹر صرف پاکستان کا ہی نہیں دنیا کا بھی سب سے بڑا ویکسینیشن سینٹر ہے :بابر حیات تارڈ

پی ڈی ایم اے لاہور سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں ویکسینیشن سینٹرز کی سہولت مہیا کررہی ہے جنھیں آئندہ دنوں میں تحصیل کی سطح پر بڑھایا جائے گا

 ایکسپو سینٹر لاہور کاکرونا ویکسینیشن سینٹر صرف پاکستان کا ہی نہیں دنیا کا بھی سب سے بڑا ویکسینیشن سینٹر ہے :بابر حیات تارڈ

لاہور:ریلیف کمشنر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بابر حیات تارڈ نے کہا ہے کہ ایکسپو سینٹر لاہور کاکرونا ویکسینیشن سینٹر صرف پاکستان کا ہی نہیں دنیا کا بھی سب سے بڑا ویکسینیشن سینٹر ہے جہاں ایک دن میں 20ہزارسے افراد کو ویکسینیشن کی سہولت مہیا کی جا سکتی ہے۔پی ڈی ایم اے لاہور سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں ویکسینیشن سینٹرز کی سہولت مہیا کررہی ہے جنھیں آئندہ دنوں میں تحصیل کی سطح پر بڑھایا جائے گا۔ سہولت سے فائدہ اُٹھانے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہاہے آئندہ چند دن میں مینار پاکستان اور شہر کے دیگر علاقوں میں مزید ویکسینیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ ویکسینیشن کے لیے حکومت پنجاب کی اولین توجہ کا مرکز سب سے زیادہ مستحق اور کمزور ہے۔

بتدریج ویکسینیشن کا دائرہ کار 60سال سے کم عمر افراد تک بڑھایا جائے گا۔ آئندہ چار سے پانچ ہفتوں میں پچاس سال سے زائدعمر افراد کی ویکسینیشن بھی ممکن ہو گی۔ لاہور ایکسپو سینٹر میں اب تک 45ہزار سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ وباء سے تحفظ کے لیے تمام شہریوں کی ویکسینیشن ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریلیف کمشنر نے آج لاہور ایکسپو سینٹر میں کرونا ویکسینیشن سینٹر کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔بابر حیات تارڈ نے کہا کہ کرونا ویکسین پر تحقیق کا عمل جاری ہے۔ اُمید ہے کہ جلد ایسی ویکسیین بھی منظر عام پر آئے گی جسے بار بار لگوانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ابتدائی طور پر ویکسینیشن سینٹرز 6ماہ تک فعال رکھے جائیں گے بعد ازاں ضرورت کے مطابق مدت میں اضافہ عمل میں لایاجائے گا۔ بابر حیات تارڈ نے میڈیا کو بتایا کہ ایکسپو سینٹر میں ویکسینیشن  کے لیے آئے افراد کے تاثرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سینٹرمیں ویکسینیشن کی بہترین سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔

حکومت پنجاب ویکسین سینٹرز کے لیے پی ڈی ایم اے کے تحت فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ دیگر تمام ادارے جن میں کمشنر لاہور، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ، سول ڈیفنس،ریسکیو1122اور پرائمری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ   شامل ہیں پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت مل کرخدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی کارکردگی خصوصیت کے ساتھ قابل ستائش ہے جو ایکسپوویکسین سینٹر میں ہر مرحلہ کی بذات خودنگرانی کر رہے ہیں۔ آئندہ دنوں میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ بھی ڈی سی لاہور کے ساتھ ویکسینیشن سینٹرز کی مانیٹرنگ کی خدمات سرانجام دیں گے۔ ریلیف کمشنر نے ویکسینیشن کے لیے لوگوں کی بڑھتی ہوئی سنجیدگی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ایک سوال کے جواب میں کمشنر لاہور نے بتایا کہ بیرون ملک سفر اختیار کرنے والے 60سال سے کم عمر افراد پرائیویٹ سیکٹرسے استفادہ کر سکتے ہیں۔ فی الوقت حکومت پنجاب کی اولین ترجیح کمزور طبقہ ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران وباء سے تحفظ کے لیے پاکستان کی کارکردگی دیگر ممالک سے بہت بہتر رہی۔ کورونا کی تیسری لہر میں شرح اموات میں اضافہ ہوا۔شرح اموات پر کنٹرول کے لیے ضروری ہے کہ شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور پنجاب حکومت کی جانب سے دی جانے والی ویکسینیشن کی مفت سہولت سے استفادہ کریں۔ ڈی سی لاہور نے کہا کہ ویکسینیشن سینٹر میں حکومتی پالیسی کے مطابق 60سال سے زائد عمر کر افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ ایکسپو کرونا ویکسین سینٹر میں اب تک 12000افراد رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ موقع پر آکر خود کو رجسٹرڈ کروانے والوں کو بھی ویکسین ویکسینیشن کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت پنجاب آئندہ ایک ڈیڑھ ماہ میں مینار پاکستان کے علاوہ پنجاب کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹیشن انسٹیٹیوٹ، تحصیل شالیمار اور ماڈل ٹاؤن میں بھی ویکسینئشن سینٹرز قائم کرے گی تاکہ ساٹھ سال سے کم عمر افراد کو بھی ویکسینیشن کی سہولت مہیا کی جا سکے۔