اسرائیل اور حماس گیارہ روز سے جاری جنگ بندی پر رضامند

اسرائیل اور حماس گیارہ روز سے جاری جنگ بندی پر رضامند

واشنگٹن: اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین پر ہولناک بمباری اور مظالم کےبعد جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ اس کی تائید میں مزاحمتی حریت پسند تنظیم حماس نے گیارہ روز سے جاری جنگ بندی کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جنگ بندی سے متعلق ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں سیکیورٹی کیبینٹ کی جانب سے متفقہ طور پر جنگ بندی کی منظوری دی گئی ہے۔اس جنگ بندی میں ایک جانب عالمی اور اقوامِ متحدہ کا دباؤ شامل ہے تو دوسری جانب مصر نے بھی خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ فلسطینی حریت پسندوں کی دونوں تنظیموں الفتح اور حماس نے کہا ہےکہ جمعہ کی رات دو بجے سے جنگ بندی پر عمل شروع ہوجائے گا۔

اس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ کے  مطابق غزہ میں گزشتہ 10 دنوں سے جاری اسرائیلی بمباری کے بعد اب اسرائیلی حکومت اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، مصری حکام نے حماس کی قیادت سے مذاکرات کیے  تھےجب کہ اسرائیلی نے فوجی اہداف حاصل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی افواج کی جانب سے بمباری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

علاوہ ازیں  جنگ بندی کے لیے امریکا، مصر اور قطر سمیت دیگر یورپی ممالک نے بھی اپنا خصوصی کردار ادا کیا ہے، ان ممالک کی جانب سے غزہ کی خراب صورتحال کے باعث اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور حماس کی قیادت پر کشیدگی ختم کرنے کے لیے شدید دباؤ بھی ڈالا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کے بعد چوتھی بار اسرائیلی وزیراعظم کو ٹیلیفون کیا تھا تاہم اس بار امریکی صدر نے جنگ بندی سے متعلق سخت موقف اپنایا اور دن کے اختتام تک کشیدگی میں واضح کمی پر زور دیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 11 دنوں سے نہتے فلسطین پر اسرائیلی بمباری جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک 232 کے قریب افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوگئے ہیں جب کہ درجنوں عمارتیں بھی زمین بوس ہوگئی ہیں۔ اس تنازعے میں 65 معصوم بچے بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ اور بے رحمانہ کارروائی کے دوران 90 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔