افغانستان میں دیرپا امن کیلئے تمام افغان سیاسی قوتوں پر مشتمل حکومت کا قیام ناگزیر ہے، پاکستانی سفیر منصور احمد خان

افغانستان میں دیرپا امن کیلئے تمام افغان سیاسی قوتوں پر مشتمل حکومت کا قیام ناگزیر ہے، پاکستانی سفیر منصور احمد خان

اسلام آباد :افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر منصور احمد خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کیلئے تمام افغان سیاسی قوتوں پر مشتمل حکومت کا قیام ناگزیر ہے، افغان سیاسی قوتیں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچائیں، وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور آج دنیا پاکستانی موقف کی تائید کر رہی ہے، پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں دیرپاامن کے قیام کیلئے امن عمل کو سپورٹ کرتا آیا ہے، عالمی برادری اور تمام ممالک کو چاہیے کہ افغانستان میں سیاسی مفاہمت کو فروغ دیں، بھارت کا افغانستان میں منفی کردار عیاں ہو چکا ہے، بھارت ہمیشہ سے افغان سیاسی مفاہمت کی مخالفت کرتا آیا ہے۔

اتوار کو نجی ٹی وی چینل سےخصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان رہنما گلبدین حکمت یار سے ملاقات کے دوران افغانستان میں دیرپا امن کے قیام، افغانستان میں گزشتہ چار دہائیوں سے بدامنی اور تنازع کو ختم کرنے کیلئے سیاسی حل نکالنے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا، اس سلسلے میں گلبدین حکمت یار کافی متحرک ہیں، وہ افغان سیاسی اور طالبان رہنمائوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، میری بھی تمام افغان رہنمائوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

منصور احمد خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو جسے افغان عوام کو اعتماد حاصل ہو تاکہ افغانستان میں امن و استحکام آئے۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر افغانستان میں صورتحال پر امن ہے، سڑکوں اور بازاروں پر امن نظر آ رہا ہے لیکن ایئرپورٹ آپریشنز میں کافی مشکل پیش آ رہی ہیں کیونکہ غیرملکیوں کے علاوہ بہت سے افغان شہری بھی افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں، ہمیں مل جل کر اس کا حل تلاش کرنا ہو گا، کابل ایئرپورٹ کی صورتحال بہتر ہونے سے انخلاءکے عمل میں تیزی آئے گی۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ کابل میں پاکستانی سفارتخانہ مکمل طور پر فعال ہے، سارا عملہ تندہی سے کام کر رہا ہے، ہم نے ابتدائی مرحلے میں پاکستانیوں کے محفوظ انخلاءکا بندوبست کیا، انہیں پی آئی اے اور سڑکوں کے ذریعے واپس بھیجا، پاکستانی سفارتخانہ دیگر ممالک کے لوگوں کے بھی انخلاءکے عمل میں معاونت کر رہا ہے اور پاکستانی سفارتخانے کی زبردست کوششوں کی دنیا بھر میں تعریف ہو رہی ہے، ہم عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے تاکہ دنیا مشکل وقت میں پاکستان کے کردار کو اچھے انداز سے یاد رکھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا افغانستان میں منفی کردار عیاں ہو چکا ہے، بھارت گزشتہ 30 برس سے افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے جن کے ذریعے وہ پاکستان میں دہشتگردی اور بدامنی کراتا رہا ہے، پاکستان نے شواہد عالمی برادری سے شیئر کئے، بھارت نے ہمیشہ سیاسی مفاہمت کے عمل کی مخالفت کی، اس وقت ضروری ہے کہ عالمی برادری اور تمام ممالک سیاسی مفاہمت کو فروغ دیں کیونکہ اس مسئلے کا حل صرف سیاسی مفاہمت میں ہے تب ہی دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے، امید ہے کہ عالمی برادری پاکستان، روس، چین اور امریکہ کی افغانستان میں دیرپا امن کے حوالے سے کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے اس سلسلے میں ہماری مدد کرے گی۔

منصور احمد خان نے کہا کہ افغان قوتوں کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گزشتہ ایک برس سے جاری امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچائیں، اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ افغانستان میں انسانی اور خواتین کے حقوق کا تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

افغان کرکٹ ٹیم سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانے ے افغانستان ٹیم کے کھلاڑیوں کو ویزے جاری کر دیئے ہیں، سیریز کے حوالے سے جو بھی کردار ادا کر سکتے ہیں کریں گے، اگر پروازیں بحال نہ ہوئیں تو ہمارے پاس افغانستان کے کھلاڑیوں کو طورخم کے راستے سڑک کے ذریعے بھیجنے کا آپشن بھی موجود ہے تاہم اس حوالے سے ہمیں پاکستانی حکام کی طرف سے اجازت درکار ہو گی۔