او آئی سی کا افغان عوام سے یکجہتی اور سلامتی و ترقی کیلیے مدد کے عزم کا اظہار

او آئی سی کا افغان عوام سے یکجہتی اور سلامتی و ترقی کیلیے مدد کے عزم کا اظہار

جدہ: 57 مسلم ممالک کی اسلامی تعاون تنظیم ’’ او آئی سی‘‘ کے افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے غیرمعمولی اجلاس میں افغان عوام سے یکجہتی اور سلامتی و ترقی کے لیے ہر ممکن مدد کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی میزبانی میں افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے غیر معمولی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور رکن ممالک نے افغانستان میں امن، سلامتی، استحکام اور ترقی لانے میں افغانیوں کی مدد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔57 مسلم ممالک کی نمائندگی کرنے والی اسلامی تعاون تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں انسانی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے کڑے وقت میں افغانستان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کو بچانے کے لیے ہرممکن اقدامات اُٹھائے جائیں۔

علاوہ ازیں اجلاس میں قومی مفاہمت کو فروغ دینے، معاہدوں کی پاسداری، اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں میں شامل انٹرنیشنل گورننگ اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے افغانستان عوام کی زندگی، سلامتی اور وقار کے حق کے تحفظ اور احترام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثمین نے کہا کہ افغانستان میں مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ افغانستان میں امن کے قیام اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثمین سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔واضح رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو افغان دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور ’’دَ افغانستان امارت اسلامی‘‘ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا چند ہفتوں میں نئی حکومت کے خدوخال وضع کرلیے جائیں گے۔