جنوبی افریقا کا 14 سال بعد پاکستان میں کھیلنا جذباتی لمحہ ہے، وسیم خان

پی سی بی اور فینز کے لیے یہ تاریخی اور یادگار لمحات ہیں۔ وسیم خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کرکٹ کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے

جنوبی افریقا کا 14 سال بعد پاکستان میں کھیلنا جذباتی لمحہ ہے، وسیم خان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ 14 برس بعد جنوبی افریقا کا پاکستان میں کھیلنا جذباتی لمحہ ہے، پی سی بی اور فینز کے لیے یہ تاریخی اور یادگار لمحات ہیں۔ وسیم خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کرکٹ کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے، دنیا بھر میں میچ کا ٹیلی کاسٹ ہونا اس بات کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن مکمل کرنے والا پاکستان دنیا کاواحد بورڈ ہے، کوویڈ کی صورتحال میں کرکٹ کرانے پر تعریف بھی ہونی چاہیے،اسپانسرز کا رسپانس بھی شاندار ہے، 6 ایسوسی ایشنز کے اگلے ماہ اسپانسرز مکمل ہو جائیں گے۔

 

وسیم خان کاکہنا تھا کہ تنقید کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، چیف ایگزیکٹو اور چیئرمین بھی اپنا کام کر رہے ہیں، ہم اپنی کوشش میں اچھی گورننس کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ ٹیم کی کارکردگی کی وجہ سے مایوسی ہونا فطری بات ہے، تنقید ہر بورڈ پر ہوتی ہے اس کا کوئی ایشو نہیں ہے،دو سے تین ہفتوں میں ایسوسی ایشنز کی کمیٹیوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہاکہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں تھوڑا وقت لگ گیا ہے، لیکن کچھ چیزیں کنٹرول میں نہیں ہوتیں، کلب کرکٹ کی سرگرمیاں باقاعدہ شروع کر رہے ہیں، رجسٹریشن کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ فینز پاکستان ٹیم کی کامیابی کو دیکھنا چاہتے ہیں،جب کامیابی نہیں ملتی تو سب کو دکھ ہوتا ہے، تنقید ہونا فطری بات ہے، ہم نے سسٹم تبدیل کیا نتائج آنے میں وقت لگے گا،کرکٹرز اور کوچز محنت کر رہے ہیں، ہم کوچز کو بیک کر رہے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ ہم پاکستان کرکٹ میں ضرور مثبت تبدیلی لائیں گے ۔ پی سی بی چیف ایگزیکٹو نے کہاکہ بورڈ اور پی ایس ایل نے ایک ساتھ چلنا ہے، چھوٹے موٹے ایشوز کو حل کر لیا ہے، فرنچائزز نے سرمایہ کاری کی ہے اور پاکستان کرکٹ میں آئندہ بھی کریں گے، ایشوز ہر جگہ ہوتے ہیں ہم نے کہا تھا کہ ہم ایشوز حل کر لیں گے، 20 فروری کو لیگ شروع ہو رہی ہے۔

وسیم خان کاکہنا تھا کہ ہم نے ابھی دو بڑے کام کرنا ہیں، توجہ فیوچر ٹور پروگرام اور آئی سی سی ایونٹس کے لیے پیشکش کرنے پر ہے، اکتوبر نومبر تک آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کی درخواستیں دے دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ میں پاکستان میں اپنے کام کوانجوائے کر رہا ہوں، زندگی سے بھی لطف اندوز ہو رہا ہوں،مجھے پاکستان میں کوئی ایشو نہیں ہے۔