پنجاب میں لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی شروع۔

اینٹی کرپشن پنجاب کی گندم سکینڈل 2018 میں فلو ملز سے 206.48ملین کی تاریخی ریکوری۔

پنجاب میں لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی شروع۔

لاہور :.پنجاب میں لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی شروع۔اینٹی کرپشن پنجاب کی گندم سکینڈل 2018 میں فلو ملز سے 206.48ملین کی تاریخی ریکوری۔کرپشن میں ملوث محکمہ فوڈ کے 155 ملازمین کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کا کرپٹ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانیاورلوٹی ہوئی دولت ہرقیمت پرواپس لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت۔تفصیلات کے مطابق رمضان 2018 کے دوران حکومت پنجاب نے عام عوام کو ریلیف دینے کے لیے فیصلہ کیا کہ فلور ملز کو محکمہ فوڈ حکومت پنجاب کی جانب سے سبسڈی پر گندم فراہم کرے تاکہ فلورملز عام عوام کو رعایتی قیمت پر آٹا فراہم کریں اس وقت فوڈ ڈیپارٹمنٹ فلور ملز کو 1200 روپے فی من کے حساب سے سرکاری گندم فراہم کر رہا تھا۔مگر حکومت پنجاب کی خصوصی ہدایت پر رمضان  2018 کے دوران  فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے 800 روپے فی من کے حساب سے فلور ملز کو گندم فراہم کی تا کہ وہ رمضان کے دوران عام شہریوں کو  20 کلو گرام آٹا 500 روپے اور10کلو گرام آٹا 250 روپے میں فراہم کریں مگر حکومت کی جانب سے سبسڈی حاصل کرنے والی ان فلور ملز نے محکمہ فوڈ کے ملازمین سے ملکر بڑے پیمانے پر کرپشن کی اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے خصوصی رمضان پیکج کے ذریعے سبسڈی پر ملنے والی گندم کواوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کر کے کروڑوں روپے کمائے۔ جس پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے پہلے راولپنڈی اور بعد ازاں پورے پنجاب میں انکوائری کا آغاز کیا انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ان فلورملز نے حکومت کی طرف سے رعایتی نرخوں پر ملنے والی گندم اوپن مارکیٹ میں فروخت کرکیکروڑوں روپیکی کرپشن کی ہے۔اینٹی کرپشن انکوائری میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پنجاب بھر میں 670 فلور ملز کو محکمہ فوڈ کی جانب سے خصوصی رعایتی قیمت  پرگندم فراہم کی گئی جن میں سے  148 فلور ملز  نے رمضان کے دوران ملنے والی گندم سے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے بھاری کرپشن کی۔ ان  148 فلورملز نے سبسیڈی پر ملنے والی گندم کا آٹا بنا کر عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اس گندم کومحکمہ فوڈ کے ملازمین کی ملی بھگت سے اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا اور کروڑوں روپے کا فائدہ اٹھایا۔ اینٹی کرپشن پنجاب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ان148 فلور ملز نے مجموعی طور پر261.37ملین کی کرپشن کی جس پر ان فلور ملز کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے اینٹی کرپشن پنجاب نے اب تک 206.48 ملین کی تاریخی ریکوری کر لی ہے اور باقی 54.89ملین کی وصولی کا عمل جاری ہے۔مزید یہ کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے بعد از انکوائری راولپنڈی سرگودھا اور گوجرانوالہ ریجن میں کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث فلورملز مالکان  اورمحکمہ فوڈ کیملازمین کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں۔اینٹی کرپشن کی انکوائری کے مطابق لاہور ریجن اے کی حدود میں موجود 55 فلور ملز نے حکومت کی جانب سے سبسڈی پر گندم حاصل کی۔جن میں سے 7 فلور ملز نے مجموعی طور پر 35.54 ملین کی کرپشن کی جس میں سے 28.65 ملین کی فلور ملز مالکان سے وصولی کی جا چکی ہے اور باقی 6.89 ملین کی وصولی کے لئے کاروائی جاری ہے اسی طرح لاہور ریجن بی کی حدود میں 55 فلور ملز نے رمضان 2018 میں  محکمہ فوڈ کی جانب سے گندم پر سبسڈی حاصل کی جن میں سے20 فلور ملزنے کرپشن کرتے ہوئے 18.07ملین کی کرپشن کی جس میں سے 15.42 ملین کی ریکوری ہوچکی ہے اور 2.66ملین کی ریکوری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ گوجرانولہ میں 106فلور ملز نے حکومت کی جانب سے دی گء سبسڈی سے فائدہ اٹھایا۔جن میں سے 24 فلور ملز نے مجموعی طور پر 34.53 ملین کی کرپشن کی۔اب تک 34.13 ملین کی ریکوری ہو چکی ہے اور بقایا 0.40ملین کی ریکوری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ فیصل آباد میں 60 فلور ملز نے سبسڈی لی جن میں سے 3 فلور ملز نے مجموعی طور پر 5.54 ملین کی کرپشن کی۔یہ تمام رقم فلور ملز مالکان سے واپس وصول کی جا چکی ہے۔ سرگودھا میں 8 فلور ملز نے سبسیڈی لی اور تما م 8 فلور ملز نے مجموعی طور پر 8.34ملین کی کرپشن کی جس میں سے 7.53 ملین کی ریکوری کی جا چکی ہے اور باقی 0.52ملین کی وصولی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔اینٹی کرپشن انکوائری کے مطابق راولپنڈی میں سب سے زیادہ 158فلور ملز نے حکومتی سبسڈی سے فائدہ اٹھایا جن میں سے 44 فلور ملز نے مجموعی طور پر 100.09ملین کی کرپشن کی جس میں سیابتک اینٹی کرپشن نے 56.17ملین کی ریکوری کر لی ہے اور باقی 43.91 ملین کی وصولی کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ملتان میں 74فلور ملز کو سبسڈی دی گئی جن میں سے 13فلور ملز نے 13.80 ملین کی کرپشن کی۔یہ تمام رقم ملز مالکان سے واپس وصول کی جا چکی ہے۔بہاولپور میں 89 فلور ملز کو سبسڈی دی گء جن میں سے 18 فلور ملز نے 39.76 ملین کی کرپشن کی۔یہ تمام رقم  ریکور ہو چکا ہے اور ساہیوال میں 25 فلور ملز کو سبسیڈی دی گء جس میں سے 6 فلور ملز نے 4.84 ملین کی کرپشن کی اب تک اینٹی کرپشن 4.34 ملین کی ریکوری کر چکا ہے اور 0.50 ملین کی ریکوری باقی ہے۔ڈیرہ غازی خان ریجن میں 37 فلور ملز کو سبسڈی دی گئی جن میں سے 5 فلور ملز نے 1.15ملین کی کرپشن کی جو تمام رقم فلورملز مالکان سے واپس وصول کی جا چکی ہے۔اس طرح مجموعی طور پر پنجاب بھر میں 667 فلور ملز کو حکومت پنجاب کی جانب سے رمضان 2018 میں سبسڈی دی گئی جن میں سے148 فلور ملز نے مجموعی طور پر 261.37 ملین کی کرپشن کی۔اور ابتک اینٹی کرپشن انکوائری کے نتیجے میں فلور ملز مالکان سے 206.48ملین کی ریکوری کی جا چکی ہے اور بقایا 54.89ملین کی ریکوری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔اینٹی کرپشن انکوائری میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کرپٹ فلور ملز مالکان کے ساتھ ساتھ محکمہ فوڈ کے افسران و اہلکاران  بھی اس کرپشن میں ملوث ہیں جس پراینٹی کرپشن  پنجاب کی جانب سے 25 ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز،29 اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولرز،65 فوڈگرین انسپکٹرز،  16 فوڈ  گرین سپر وائزار، 14سینئر کلرک اور 6جونیئر کلر ک محکمہ فوڈ کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں