نایاب شارک کو جال میں پھنسنے سے بچانے والا بجلی بھرا آلہ

 نایاب شارک کو جال میں پھنسنے سے بچانے والا بجلی بھرا آلہ

برکلے، کیلیفورنیا: دنیا بھر کے سمندروں میں خوردنی مچھلیوں کے ساتھ ساتھ نایاب شارک، رے مچھلیوں اور ناپید ہوتے ہوئے کچھوے بھی اکثر جال میں پھنس جاتے ہیں لیکن اب ہلکی بجلی خارج کرنے والا آلہ بالخصوص شارک کو دور بھگاتا ہے اور وہ جال میں الجھنے سے محفوظ رہتی ہے۔

جال میں غیرمطلوبہ جانور پھنسے کا عمل ’بائے کیچ‘ کہلاتا ہے جو پوری دنیا میں ایک مسئلہ ہے۔ ہر سال غیر مطلوبہ نایاب ترین سمندری جانور اس طرح ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اسی تناظر میں کانٹوں اور ہک پر شارک گارڈ لگایا جاسکتا ہے جو ان بڑے جانداروں کو دور رکھتا ہے اور اس کے امید افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

اس ضمن میں ٹیونا مچھلی پکڑنے والے چھوٹی  فرانسیسی کشتیوں پر شارک گارڈ لگایا گیا۔ اس کے بعد جال میں بلیو شارک اور اسٹنگ رے مچھلیوں کے جال میں پھنسنے کی شرح میں بالترتیب 91 فیصد اور 71 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس آلے کو فش ٹیک مرین سے وابستہ انجینیئروں نے بنایا ہے اور جامعہ ایکسیٹر نے اس کی آزمائش کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سمندروں سے شارک اور رے کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہیں ان میں بلیو شارک اور پیلیجک اسٹنگ رے پوری دنیا میں سب سے زیادہ پھنستی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی سمندری مخلوقات تیزی سے نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے شارک گارڈ کی کامیابی پر خوشی اور امید کا اظہار کیا ہے۔

تاہم ماہرین نے فش گارڈ کی مزید آزمائش پرزوردیا ہے کیونکہ اس سے مطلوبہ مچھلی کی مقدار بھی کم ہوئی جو فش گارڈ کے فوائد کو زائل کرسکتی ہے۔ تاہم اسےبنانےوالی کمپنی کے سربراہ پیٹ کبل کہتے ہیں کہ جب شارک گارڈ کو آزمایا گیا تو شارک قریب نہیں آئیں جو ایک امید افزا معاملہ بھی ہے۔ دوسری جانب یہ ایک چھوٹی سی بیٹری سے چلتا ہے اور اس کی ہلکی بجلی شارک کے منہ اور ناک پراثر ڈالتی ہے جس سے وہ گھبرا کر دور بھاگ جاتی ہے اور پھر لوٹ کر نہیں آتی۔