اس سال سموگ کی شدت پہلے سے کم ہو گی:بابر حیات تارڈ

سموگ کو آفت قرار دئیے جانے کے بعد پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے مربوط کوششوں کا آغاز کیا جا چکا ہے:سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو /ریلیف کمشنر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی

  اس سال سموگ کی شدت پہلے سے کم ہو گی:بابر حیات تارڈ

لاہور: سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو /ریلیف کمشنر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بابر حیات تارڈ نے کہا ہے کہ  اس سال سموگ کی شدت پہلے سے کم ہو گی۔ سموگ کو آفت قرار دئیے جانے کے بعد پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے مربوط کوششوں کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ موسمی تغیرات کے ساتھ دھوئیں کا سبب بننے والے تمام عوامل کو سختی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

اس ضمن میں ریلیف کمشنر پنجاب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی کی جائے گی۔ ضلعی حکومتوں کے علاوہ پانچ صوبائی محکمے جن میں محکمہ ماحولیات، ٹرانسپورٹ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، زراعت اور توانائی شامل ہیں اپنے اپنے دائرہ کار میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سموگ تمام متعلقہ محکموں کی استعداد کار میں اضافے کی بھی خدمات سرانجام دے گی۔

ان خیالات کا اظہار ریلیف کمشنر پنجاب نے آج پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈ آفس میں سموگ کے حوالے سے پریس بریفنگ میں کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سیکرٹری ماحولیات زاہد حسین اور ڈی جی پی ڈی ایم اے خرم عمر شہزاد بھی شریک تھے۔ ریلیف کمشنر پنجاب نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ یہ تاثر درست نہیں کے سموگ صرف چاول کی فصلوں کی باقیات سے پیدا ہو رہی ہے درحقیقت سموگ کی شدت میں اضافہ کرنے والا سب سے بڑا عنصر ٹریفک سے پیدا ہونے والا دھواں ہے جس کی بنیادی وجہ ناقص فیول کا استعمال ہے۔

صوبے میں سموگ کا43فیصد ٹرانسپورٹ،25فیصد صنعتوں سے نکلنے والے دھوئیں پر مشتمل ہے جن میں بھٹے بھی شامل ہیں جبکہ 20فیصد دھواں فصلوں کی باقیات اور کوڑا کرکٹ کی آتشزدگی سے پیدا ہو رہا ہے۔پنجاب میں چاول کی فصلوں کی تلفی 8فیصد جبکہ انڈیا سے آنے والا دھواں 12فیصد سموگ کا ذمہ دار ہے۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں حکومت پنجاب سموگ کے دوران دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف قانونی کاروائی کے علاوہ سٹرکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں کمی کے لیے بھی ٹھوس اقدامات اُٹھا رہی ہے اس حوالے سے سرکاری اور سکولوں میں پک اینڈ ڈراپ دینے والی گاڑیوں کی تعداد میں کمی کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

پرانی ٹیکنالوجی پر چلنے والے اینٹوں کے بھٹے7نومبر سے 31دسمبر تک بند رہیں گے۔ ضرورت پڑنے پر اس دورانئے میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ 31دسمبر سے قبل تمام بھٹے  زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر دئیے جائیں۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188کا پرچہ کیا جائے گا۔ ریلیف کمشنر نے سموگ کو آفت قرار دینے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں 42لاکھ سالانہ اموات فضائی آلودگی کے سبب ہو رہی ہیں۔ کورونا کی موجودگی میں صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی تھی اس لیے سموگ سے آفت کے طور پر نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔

فصلوں کی باقیات کی تلفی سے پیدا ہونے والے دھوئیں کی روک تھام کے لیے دیہاتوں کی سطح پر لوکسٹ کے دوران بنائی گئی کمیٹیاں جن میں کسان اور زمیندار بھی شامل ہیں متحرک کر دی گئیں ہیں۔ آتشزدگی پر کنٹرول کے لیے مقامی سطح پر درجہ حرارت کی اچانک تبدیلی کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ تعمیراتی صنعت کو پابند کر دیا گیا ہے کہ تعمیراتی سامان کے ذخیرہ سے اُٹھنے والی دھول مٹی کے امکانات کوکنٹرول رکھا جائے۔ جنگ چی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ریلیف کمشنر  نے بتایا کہ ٹریفک کے بہاؤ اور سواریوں کی تعداد میں کمی کے لیے تکنیکی گروپ کی سفارشات کے بعد چنگ چی کو لیگل فریم ورک میں لانے کے حوالے سے حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔

میڈیا بریفنگ سے قبل ریلیف کمشنر پنجاب بابر حیات تارڈ نے سموگ پر کنٹرول کے لیے اقدامات کے حوالے سے ورکنگ گروپ کے اجلاس کی بھی صدات کی جس میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے رانا خرم عمر شہزاد کی جانب سے مسئلہ پر کنٹرول کے لیے مجوزہ لائحہ عمل پر تفصیلی بریفگ دی گئی۔ اجلاس میں محکمہ ماحولیات، زراعت  اور مختلف اضلاع کے کمشنرز سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔