محکمہ انسانی حقوق اور پنجاب وومن اتھارٹی کے باہمی اشتراک سے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سیمینار

 سیمینار میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت،انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین کی خصوصی شرکت , سیمینار میں ممبران پنجاب اسمبلی،پولیس،ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے نمائندگان کی بھی شرکت , حکومت پنجاب خواتین کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے: اعجاز عالم آگسٹین

محکمہ انسانی حقوق اور پنجاب وومن اتھارٹی کے باہمی اشتراک سے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سیمینار

لاہور: محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور، پنجاب وومن اتھارٹی اور پیس فار جسٹس کے باہمی اشتراک سے لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے:انصاف سب کیلئے: کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں پولیس،ایف آئی اے،پراسیکیوشن،اکیڈمیہ،نمائندگان سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔سیمینار کے آغاز میں چیئرپرسن وومن اتھارٹی کنیز فاطمہ چدھڑ نے سیمینار کے اغراض و مقاصد کے بارے میں بتایا کہ آج کی تقریب کا مقصد ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوش سے ایسا ماحول یقینی بنائیں جدھر ہماری خواتین مکمل آزادی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں جبکہ پنجاب وومن اتھارٹی کے پلیٹ فارم سے فیصلہ سازی کے عمل میں عورتوں کی موثر شرکت اور قیادت کو یقینی بنانا ہے تاہم خواہاں ہیں کہ خواتین کو یقین دلائیں کہ آپ پر ہونیوالے ہر قسم کے تشدد کی روک تھا م کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب وومن اتھارٹی ہر لمحہ موجود ہے،جدھر آپ کو ہر قسم کی سہولت مکمل مفت دیجائے گی۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ قوانین ہر دور میں بنتے آئے ہیں مگر اصل مسئلہ انکا نفاذ ہوتا ہے جو کہ ماضی میں دیکھا گیا کہ قوانین موجود ہیں مگر آگاہی پر زور نہیں دیا گیاجبکہ ہماری حکومت قوانین کی آگاہی پر مکمل توجہ سے رہی ہے۔ہمارے معاشر ے میں زیادہ تر بیگاڑ اسی لئے ہے کہ ایک عام آدمی اپنے حقوق سے آگا ہ نہیں ہے تو وہ کیسے قوانین کے بارے میں جانے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ لاہور اور پنڈی میں خواتین کے حوالے سے سینٹرز بنانے جا رہے ہیں اور تھانوں میں خواتین کے حوالے سے علیحدہ کاؤنٹر بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین نے کہاکہ حکومت پنجاب خواتین کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکج میں حکومت پنجاب کے مختلف اقدامات کے بارے میں ایک جامع پالیسی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ معاشرتی مدد فراہم کرکے خواتین کے خلاف تشدد کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ خواتین کو بااختیار بنانا اور بلا تفریق انویسٹمنٹ، تشدد کے خلاف موثر حکمت عملی اور انسانی حقوق کی فراہمی کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے تاہم تحریک انصاف کے دور حکومت میں خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تسلی بخش کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اوران کے خلاف تشدد کی روک تھام کیلئے پنجاب اسمبلی میں موثر قانون سازی کی جا رہی ہے تاہم پنجاب بھرمیں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے پنجاب حکومت کے عملی اقدامات عیاں ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی میں انسانی حقو ق کی چیئر قائم کی گئی ہے جبکہ پنجاب بھر کے تمام ایس ایچ اوز کو چوہنگ ٹریننگ سینٹر میں باقاعدہ انسانی حقوق کے موضوع پر تربیت دیجا رہی ہے تاہم ہم سب کو ملکر لٹریچر کو اتنی سادہ زبان میں لانا ہوگا کہ ایک عام آدمی بھی اس کو سمجھ سکے۔

انہوں نے کہاکہ خوبصورت تقریب کے انعقا د پر انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں بھی ایسے ہی ملکر خواتین کے تحفظ کے لئے اقدامات یقینی بناتے رہیں گے۔تقریب سے ایم پی اے سعدیہ سہیل رانا،ارشاد بزمی اور دیگر سماجی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملکر معاشرے میں بیگاڑ ختم کرنے کے لئے ایسی کاوشوں پر زور دینا ہوگا۔