وزیر اعلیٰ پنجاب کی تشکیل کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقد

اجلاس میں صوبائی وزیر برائے آپباشی محسن لغاری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بابر حیات تارڈ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شوکت علی، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ طاہر خورشید، چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ، کمشنر بہاولپور، ڈائریکٹر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی، سابقہ فیڈرل سیکرٹری عرفان الٰہی، راشد لنگڑیال اورمتعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی

وزیر اعلیٰ پنجاب کی تشکیل کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقد

لاہور: وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت پنجاب بورڈ آف ریونیو کے تحت خدمات کی فراہمی اور محصولات کے نظام میں بہتری کے لیے تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل نو کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی تشکیل کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے آپباشی محسن لغاری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بابر حیات تارڈ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شوکت علی، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ طاہر خورشید، چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ، کمشنر بہاولپور، ڈائریکٹر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی، سابقہ فیڈرل سیکرٹری عرفان الٰہی، راشد لنگڑیال اورمتعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے اجلاس کو کمیٹی کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی وزیر خزانہ پنجاب کی قیادت میں اراضی سینٹرز میں کرپشن کے خاتمے اور پٹواریوں کے ہاتھوں عوام کے استحصال کے خاتمے کے لیے اقدامات کا تعین کرے گی اور محصولات کے نظام میں جدت کے ذریعے شفافیت اور خدمات میں فراہمی میں بہتری کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا کام مکمل کرنے لے لیے ٹائم لائن کا تعین اور مستقبل میں محصولات کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل بھی کمیٹی کی ذمہ داریوں کا حصہ ہو گی۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے اجلاس کو بورڈ آف ریونیو کے موجودہ سروس سٹریکچراور کارکردگی میں بہتری کی سفارشات سے بھی آگاہ کیا۔

صوبائی وزیر نے محکمہ بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی کہ وہ لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور پٹواریوں کے مابین رابطوں کے فقدان کو ختم کریں اور مزید پٹواریوں کی بھرتی سے قبل محصولات کے موجودہ نظام میں  پٹواری کی ذمہ داریوں کی از سر تشریح کریں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ پٹواریوں کی بھرتی اور کمپیوٹرائز نظام کے باوجود اب تک ادارے کی کارکردگی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی تو مزید پٹواریوں کی بھرتی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ کمیٹی میں لینڈ ریکارڈ میں مزید پٹواریوں کی بھرتی کو محصولات کے جدید نظام میں پٹواری کے کردار کی ازسر نو تشریح سے مشروط کردیا گیا۔

صوبائی وزیر نے بورڈ آف ریونیو سمیت ٹیکس اکٹھا کرنے والی تمام ایجنسیوں کو مزید بھرتیوں کی بجائے خدمات کی فراہمی میں بہتری پر توجہ دینے کی ہدایت کی صوبائی وزیر نے کہا کہ محصولات کا ایک بڑا حصہ محصول اکٹھا کرنے والے اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں اور پر خرچ ہو رہا ہے۔ ٹیکس کے نظام میں جدت کا مقصد انسانی مداخلت کو کم سے کم کر کے اخراجات پر بوجھ میں کمی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ادارے اپنے حجم میں اضافے کی بجائے محصولات کے حجم میں اضافے پر توجہ مرکوز کریں۔

 صوبائی وزیر نے پنجاب میں سموگ پر کنٹرول کے لیے اقدامات کے حوالے سے ریلیف کمشنر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بابر حیات تارڈ کی قیادت میں تشکیل کردہ ورکنگ گروپ کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا۔ریلیف کمشنر پنجاب نے صوبائی وزیر کو سموگ پر کنٹرول کے حوالے سے پی ڈی ایم اے کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ورکنگ گروپ کی تشکیل کے بعد پی ڈی ایم اے میں باقاعدہ سموگ مانیٹرنگ سیل قائم کیا جا چکا ہے۔ تمام سٹیک ہولڈز سے مشاورت کے بعد متعلقہ محکموں کو ان کی ذمہ داریاں تفویض کر دی گئیں ہیں۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی کی پیمائش کے لیے سپارکو کے اعدادوشمار سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔

تمام ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف کمشنرز کے اختیارات دے دئیے گئے ہیں۔ سموگ پر کنٹرول کے لیے کاروائیوں پر عملدرآمد کے لیے ریلیف کمشنرکے احکامات کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔سموگ پر کنٹرول کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے پی ڈی ایم اے میں ڈیش بورڈ ر قائم کر دیا گیا ہے۔صوبائی وزیر نے ریلیف کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ سموگ پر کنٹرول کے لیے تمامتر توجہ مانیٹرنگ پر مرکوز کرنے کی بجائے ایسے آلات کی فراہمی کو یقینی بنائیں جو سموگ میں کمی کے لیے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ بھٹوں کی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کے لیے بنک آف پنجاب اور سٹیٹ بنک کی خدمات سے استفادے کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ فیکٹریوں میں سکربرز کی تنصیب کے حوالے سے اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ٹریفک کی بہاؤ میں کمی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی بندش وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سموگ میں اضافے یا ہوا میں آلودگی کے تناسب کے ساتھ تکنیکی گروپ کی تعلیمی اداروں کی بندش اور کاروبار کے اوقات میں تبدیلی کی سفارشات کا حتمی وزراء کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا۔ اس سے قبل پہلے سے جاری شدہ احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔