محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈ کی میٹنگ

 جس کا انعقاد 16 ستمبر 2020 کو ہوا  جس کے ایک ایکس ایجنڈا ایٹم جس میں تمام CBOs جو کہ پنجاب اڑیال اور ہرن کی نسل کی حفاظت کے پیش نظر سالٹ رینج،میانوالی اور اٹک میں بنائی گئی ہیں

محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈ کی میٹنگ

حالیہ دنوں میں  سوشل میڈیا پر زیر گردش  ایک خبر جس میں محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈ کی میٹنگ  جس کا انعقاد 16 ستمبر 2020 کو ہوا  جس کے ایک ایکس ایجنڈا ایٹم جس میں تمام CBOs جو کہ پنجاب اڑیال اور ہرن کی نسل کی حفاظت کے پیش نظر سالٹ رینج،میانوالی اور اٹک میں بنائی گئی ہیں  کو غیر تحفظ شدہ شکاری جانوروں کو  ہلاک کرنے کی اجازت دینے سے متعلق بات کی گئی ہے مذکورہ خبر کو سوشل میڈیا  میں غلط انداز میں صوبائی وزیر جنگلات سید صمصام علی بخاری کے حوالے سے نشر کیا گیا کہ یہ اجازت صوبائی وزیر کے حکم پر دی گئی ہے

صوبائی وزیر جنگلی حیات سید صمصام علی بخاری نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی ہے  اور کہا ہے  کہ یہ خبر بالکل  بے بنیاد ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ بورڈ میٹنگ میں  CBOs کو یہ اختیار نہیں دیا گیا بلکہ انکوآ اڑیال اور ہرن کے تحفظ کی خاطر محکمہ کے ساتھ تعاون پر زور دیا گیا کہ اگر کوئی غیر تحفظ شدہ جنگلی جانور اڑیال اور ہرن  یا اس کے بچوں کو نقصان پہنچاتا  ہے کو  تلف کیا جاے جو کہ وائلڈ لائف ایکٹ 1974 کے تحت قانونی ہے