ہ پنجاب میں پچاس سے زائد ڈاکٹر نے جان کا نذرانہ پیش کیا لیکن ہیلتھ پروفیشنلز کی خدمات کو سراہا نہیں گیا

ہ ینگ ڈاکٹرز کی کاوشوں کی بدولت کورونا کی صورتحال بہت بہتر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک پنجاب میں کسی ہیلتھ پروفیشنل کو رسک الاؤنس نہیں دیا گیا

ہ پنجاب میں پچاس سے زائد ڈاکٹر نے جان کا نذرانہ پیش کیا لیکن ہیلتھ پروفیشنلز کی خدمات کو سراہا نہیں گیا

ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر ڈاکٹر سلمان حسیب نے کہا کہ پنجاب میں پچاس سے زائد ڈاکٹر نے جان کا نذرانہ پیش کیا جبکہ ساڑھے چار ہزار سے زائد نرسز اس وبا سے متاثر ہوئیں لیکن پنجاب میں

ہیلتھ پروفیشنلز کی خدمات کو سراہا نہیں گیا۔ ڈاکٹر سلمان حسیب نےلاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کی کاوشوں کی بدولت کورونا کی صورتحال بہت بہتر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک پنجاب میں کسی ہیلتھ پروفیشنل کو رسک الاؤنس نہیں دیا گیا۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان اسپتالوں کی نجکاری کرنا چاہتے ہیں، یہ جس ادارے کی نجکاری کرنا چاہتے ہیں پہلے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ڈاکٹر سلمان حسیب کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسپتالوں کی نجکاری کے بعد کیا حالت ہوئی وہ سب نے دیکھا، وزیراعظم عمران خان جو پشاور سے نجکاری کا نظام لا رہے ہیں وہ فیل نظام ہے۔