وزارت تجارت ہاتھ کھڑے نہ کرے، تجارت بڑھانے کیلئے اقدامات کرے: سید نوید قمر

پاکستان اور بھارت کے مسئلے ختم نہیں ہوں گے، تاہم بھارت کے ساتھ دبئی سمیت دیگر راستوں سے تجارت جاری ہے۔ قومی اسمبلی میں نوید قمر کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس

 وزارت تجارت ہاتھ کھڑے نہ کرے، تجارت بڑھانے کیلئے اقدامات کرے: سید نوید قمر

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے تجارت سید نوید قمر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مسئلے ختم نہیں ہوں گے، تاہم بھارت کے ساتھ دبئی سمیت دیگر راستوں سے تجارت جاری ہے۔ قومی اسمبلی میں نوید قمر کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس ہوا، جس میں بھارت کے ساتھ تجارت خصوصاً کھجور کی برآمد پر پابندی کا جائزہ لیا گیا۔ نوید قمر نے کہا کہ وزارت تجارت ہاتھ کھڑے نہ کرے، تجارت بڑھانے کیلئے اقدامات کرے، جبکہ بھارت کے علاوہ دیگر ملکوں کی تجارتی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کے کاشتکاروں کیلئے پالیسی اور جامع پلان تیار کیا جائے۔

رکن قومی اسمبلی و پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ سندھ کے کاشتکاروں کو مراعات دینے کا مطالبہ کردیا۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ سکھر اور حیدرآباد کے اضلاع منظم طریقے سے کھجور پیدا کررہے ہیں، جبکہ پاک بھارت تنازعات کی وجہ سے کسان دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستانی کھجور اور چھوہارے پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے، کسانوں کیلئے سبسڈی اور متبادل منڈی تلاش کی جائے۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ افغانستان کو بھارت کے ساتھ تجارت کی اجازت دی گئی، پاکستانی کسانوں کو بھی یہ سہولت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی طرح حکومت کھجور کی امدادی قیمت بھی مقرر کرے۔ سیکرٹری تجارت نے کہا کہ نئی تجارتی پالیسی میں پہلی بار صوبائی تجارتی منصوبے پالیسی کا حصہ بنائے جارہے ہیں، جبکہ پانچ سالہ تجارتی پالیسی بنائی جارہی ہے۔ سیکرٹری تجارت نے کہا کہ یہ 2022 سے 2027 تک کی تجارتی پالیسی ہوگی۔