حکومت کی انقلابی اصلاحات نے تعمیرات کے شعبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے، میاں محمود الرشید

 وزیراعظم اگلے ماہ ایل ڈی اے سٹی لاہور میں پینتیس ہزار اپارٹمنٹس کے پراجیکٹ کا افتتاح کریں گے،لاہور چیمبرز میں خطاب

حکومت کی انقلابی اصلاحات نے تعمیرات کے شعبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے، میاں محمود الرشید

لاہور: وزیر ہاؤسنگ و اربن ڈویلپمنٹ میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ تعمیرات پاکستان کا وہ شعبہ ہے جو ماضی میں بری طرح نظر انداز ہوتا رہا لیکن اب حالات بالکل مختلف ہیں، موجودہ حکومت کی انقلابی اصلاحات نے اس شعبہ کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔ وزیراعظم اگلے ماہ ایل ڈی اے سٹی لاہور میں پینتیس ہزار اپارٹمنٹس کے پراجیکٹ کا افتتاح کریں گے۔ یہ بات اُنہوں نے لاہور چیمبر ز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان،نائب صدر طاہر منظور چودھری، سابق صدر محمد علی اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط میں بہت سی تبدیلیاں کرکے انہیں کاروبار دوست بنا دیاگیا ہے، ڈویلپرز کے لیے بہت سے اداروں سے منظوری لینا بڑا مسئلہ تھا مگر اب تمام این او سی ایل ڈی اے میں ون ونڈو کے تحت مل رہے ہیں۔ ایل ڈی اے ساٹھ دنوں کے اندر منظوری دینے کا پابند ہے، تعمیراتی منصوبوں کے لیے فنانسنگ بڑا مسئلہ تھا لیکن اب سٹیٹ بینک نے بینکوں کو پابند کردیا ہے کہ وہ مجموعی قرضہ جات کا پانچ فیصد تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے مختص کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل پراپرٹیز کی سب ڈویژن کے لیے کوئی قانون نہیں تھا لیکن اب اس کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپارٹمنٹ بلڈنگز کی طرف راغب کیا جارہا ہے، اس سے زمین کی بچت بھی ہوگی اور تعمیراتی لاگت کم ہونے سے لوگوں کو سستے فلیٹ ملیں گے، مختلف اضلاع میں ان پراجیکٹس پر کام شروع کردیا گیا ہے۔دیہات کے ساتھ پچاس گھر بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، بے گھر افراد کو یہ گھر آسان اقساط پر دیے جائیں گے۔اگلے چالیس سال کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور کا ماسٹر پلان بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چیلنجز سے تنہا نہیں نمٹ سکتی، اسے نجی شعبے کی مدد کی ضرورت ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق نجی شعبہ کو تعمیراتی شعبہ میں شامل کرنے کا عزم خوش آئند ہے، اس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا اور معیشت کو تقویت ملے گی۔ نجی شعبہ کو سہولیات کی فراہمی اور ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے تخمینے کے مطابق، پاکستان کو اس وقت 11 سے12 ملین ہا ؤسنگ یونٹس کی کمی کا سامنا ہے جبکہ شہری ہاؤسنگ یونٹس کی قلت تقریبا 40 لاکھ بتائی جاتی ہے، چونکہ پنجاب میں ملک کی کُل آبادی کا 53فیصد حصہ ہے، لہذا، پنجاب میں رہائش کی ضروریات دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کی تکمیل یقینا ایک نہایت اہم کامیابی ہو گی کیونکہ یہ پروگرام ان لوگوں کیلئے ایک امید کا سبب ہے جو آج کے اس مہنگائی کے دور میں اپنا گھر کا بس خواب ہی دیکھ سکتے ہیں، اس سلسلے میں پنجاب ہاؤسنگ ٹاسک فورس کا کردار بھی اہم ہے۔  سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے کہا کہ راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے سلسلے میں نجی شعبے کو درپیش تحفظات دور کیے جائیں اور نجی شعبے کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ہائی رائز بلڈنگز میں سیفٹی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ سابق صدر محمد علی میاں نے تجویز پیش کی کہ ایمنسٹی سکیم برائے کنسٹرکشن سیکٹر کی تاریخ میں توسیع کی جائے۔