آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈنے پاکستان کیلئے 50کروڑ ڈالرکی اگلی قسط فوری طورپرجاری کرنے کی منظوری دیدی

آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈنے پاکستان کیلئے 50کروڑ ڈالرکی اگلی قسط فوری طورپرجاری کرنے کی منظوری دیدی

اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے انتظامی بورڈنے پاکستان کیلئے 50کروڑ ڈالرکی اگلی قسط فوری طورپرجاری کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہاہے کہ وبا سے پیداہونے والے چیلینجز اورمشکلات اورتوسیعی فنڈ سہولت کے حوالہ سے پاکستان کی حکومت کے عزم سے معیشت کوسہارادینے، قرضوں کی پائیداریت کویقینی بنانے اورڈھانچہ جاتی اصلاحات کے درمیان توازن قایم کرنے میں مددملی ہے۔ آئی ایم ایف نے اقتصادی اصلاحات اورتوسیعی فنڈ سہولت سے متعلق پاکستان کی اقدامات پراطمینان کااظہارکیاہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہاگیاہے کہ انتظامی بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کیلئے توسیعی فنڈسہولت (ای ایف ایف) کے تحت دوسری سے لیکر پانچویں جائزہ کو مکمل کیاگیا، بورڈ نے پاکستان کو بجٹ معاونت کیلئے تقریباًدوارب ڈالرمیں سے فوری طورپر50 کروڑ ڈالرکی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔آئی ایم ایف نے 3 جولائی 2019 کو پاکستان کیلئے ای ایف ایف کی منظوری دی تھی۔اس پروگرام کا مقصد اقتصادی اصلاحات، کوویڈ 19 سے متاثرہ معیشت کی بحالی، انسانی زندگی اورروزگارکے بچاومیں معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کلی معیشت کے استحکام اورقرضوں کی پائیداریت میں اضافہ کرنا ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالہ سے پاکستان کی پیش رفت حوصلہ افزا ہے،کوویڈ 19 کی عالمگیروبا سے پیداہونے والی مشکلات اگرچہ بدستورموجود ہیں تاہم پاکستانی حکومت کی انسانی زندگیوں اورروزگارکے حوالہ سے پالیسیاں اہمیت کی حامل ہے۔پاکستان کی حکومت نے سٹیٹ بینک کی خودمختاری، کارپوریٹ ٹیکسیشن، سرکاری کاروباری اداروں کے انتظام وانصرام میں بہتری لانے، اوربجلی سمیت معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات میں پیش رفت کی ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ وبا سے پیداہونے والے چیلینجز اورمشکلات اورتوسیعی فنڈ سہولت کے حوالہ سے پاکستان کی حکومت کے عزم سے معیشت کوسہارادینے، قرضوں کی پائیداریت کویقینی بنانے اورڈھانچہ جاتی اصلاحات کے درمیان توازن قایم کرنے میں مددملی ہے.تاہم وبا کی وجہ سے غیرمعمولی بے یقینی کی صورتحال وخطرات کے تناظرمیں فیصلوں کی اونرشپ اوراصلاحات کے عمل کوآگے بڑھانااہمیت کاحامل ہے۔مالی سال 2021 کے پہلے نصف میں پاکستان کی معاشی کارگرگی دانش مندانہ رہی ہے، اس پالیسی کے تحت ہدف پرمبنی معاشی معاونت فراہم کی گئی جبکہ توازن کوبھی قایم رکھا گیا، تاہم آگے بڑھنے کیلئے پاکستان کوپائیداربنیادوں پرمحصولات کی بنیادوں میں وسعت لانے کے ساتھ ساتھ اخراجات کے بہترانتظام وانصرام اورصوبائی کنٹری بیوشنز کومحفوظ بنانا ہوگا اس سے دیرپا بنیادوں پر عوامی منصوبوں پرخرچ کرنے میں بہتری آئیگی۔بیان میں کہاگیاہے کہ مالی سال 2022 کے اہداف کاحصول جنرل سیلز اورپرسنل انکم ٹیکس پرمنحصر ہے۔وبا اورمعاشی کسادبازاری کے اثرات کوکم کرنے میں سماجی تحفظ کے اخراجات کاتحفظ، سماجی تحفظ میں اضافہ اوراصلاحات کیلئے وسیع ترحمایت کاحصول اہمیت کاحامل ہے

۔بیان میں کہاگیاہے کہ موجودی زری پالیسی مناسب ہے اوراسے بحالی میں معاونت مل رہی ہے،مستقبل میں پالیسی ریٹ کیلئے اقدامات مستحکم اورکم افراط زرکیلئے ڈیٹاکی بنیادپرقائم طرزعمل میں پنہاں ہے، بیرونی جھٹکوں کوبرداشت کرنے اور زرمبادلہ کے اضافی ذخائر کے ضمن میں مارکیٹ کی بنیادپرایکسچینج ریٹ بدستور اہمیت کاحامل ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ پاکستان کی حکومت کے حالیہ اقدامات سے توانائی کے شعبہ میں بقایا جات میں اضافہ کوروکنے میں مددملی ہے، گردشی قرضہ کے انتظام وانصرام کیلئے حالیہ منصوبہ اورنیپراایکٹ میں ترامیم سے نہ صرف انتظامی طورپربہتری آئیگی بلکہ اس سے لاگت میں کمی، باقاعدہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور ہدف پرمبنی زرتلافی میں بھی مددملے گی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بیان میں کہاگیاہے کہ حالیہ بہتری کے باوجود ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کے خاتمہ کیلئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے، اس سے اقتصادی پیداوارمیں اضافہ ہوگا، شفافیت کوفروغ ملے گا جبکہ نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اس ضمن میں پاکستان کی حکومت کوسرکاری کاروباری اداروں میں گورننس، شفافیت اورفعالیت میں بہتری، تجارت وکاروبارکیلئے بہترماحول اورملازمتوں کے مواقع میں اضافہ، اسلوب حکمرانی اوربدعنوانی کے خاتمہ اداروں میں بہتری کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری رکھنا چاہئیے۔ بیان میں کہاگیاہے کہ منی لانڈرنگ اوردہشت گردی کیلئے مالی ذرائع کے انسدادکے حوالہ سے ایکشن پلان کو بھی مکمل کرنا چاہئیے۔