ہم پاکستان سمیت پورے خطے میں امن وسلامتی اور ترقی کے خواہاں ہیں،صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کایوم پاکستان کی مناسبت سے پریڈ سے خطاب

ہم پاکستان سمیت پورے خطے میں امن وسلامتی اور ترقی کے خواہاں ہیں،صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کایوم پاکستان کی مناسبت سے پریڈ سے خطاب

اسلام آباد:صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطے میں امن وخوشحالی کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہو ئے کہاہےکہ ہم پاکستان سمیت پورے خطے میں امن وسلامتی اور ترقی کے خواہاں ہیں ،جنوبی ایشیاء کی قیادت تعصب اور مذہبی انتہاپسندی کی سیاست ترک کرے،ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھاجائے،دفاعی شعبہ میں خود انحصاری کی منزل حاصل کر چکے۔اسلاموفوبیاکا متحد ہوکر مقابلہ کیاجائے۔ان خیالات انہوں نے یوم پاکستان کی مناسبت سے پریڈ سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صدر مملکت نے کہاکہ پوری قوم بشمول افواج پاکستان کو یوم پاکستان کی مبارک ہو۔پریڈ میں شرکت کرنے والے دوست ممالک اور ہوابازوں کا شکر گزار ہوں۔یہ اس بات کی دلیل ہے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے دوست ممالک ہمارے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہاکہ یوم پاکستان مسلمانان ہند کے الگ تشخص اور مذہبی آزادی کے تجدید عہد کا دن ہے۔

یہ پہلی جامع دستاویز تھی جس کی بنیاد پر ہندوستان کے مسلمانوں کے مستقبل اور آزادی کا تعین کیاگیا۔علامہ اقبال کے افکار اور قائداعظم کی قیادت میں 7برس میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔صدرمملکت نے کہاکہ علمی،اقتصادی،سیاسی اور سماجی شعبوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبہ میں خود انحصاری کی منزل حاصل کر چکے ہیں۔پاکستان ایٹمی قوت ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری دلیر اور بہادر افواج ہماری خودداری اور غیرت کی عکاس ہیں۔مسلح افواج کی مادروطن کے دفاع کیلئے قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔جنگ ہو یا خلفشار،اندرونی امن وامان،حادثات یا قدرتی آفات کی صورتحال ہومسلح افواج نے وطن عزیز کی حفاظت اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔صدر مملکت نے کہاکہ پاک فوج کے جوان پہاڑوں،صحراؤں،دریاؤں اور فضاؤں میں ملکی دفاع کیلئے دن رات مستعدہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی۔آپریشن ردالفساد میں ملک بھر میں دہشتگردی کے نیٹ ور ک کو نیست ونابود کیا جس کی دنیا معترف ہے۔

انہوں نے کہاکہ دنیا کو کورونا وبا کا سامنا ہے۔ہم نے خصوصی آگاہی،نظم وضبط اور ذمہ داری کے ساتھ مزدور کا احساس کرتے ہوئے اس وبا کا مقابلہ کیا۔ہم کورونا وبا پر جلد قابو پالیں گے تاہم احتیاط ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ملکی معیشت کی ترقی کیلئے پرعزم ہیں۔دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔سائنس وٹیکنالوجی اور حرفت میں ترقی کے ساتھ ساتھ سفارت اورمعیشت کے شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ہمیں اپنے ملک کواسلامی ورثہ،قومی نظریات اور روایات کا پاس رکھتے ہوئے ترقی وجدت کو بروئے کار لاکراسلامی فلاحی جمہوری مملکت بناناہے۔انہوں نے کہاکہ ترقی و خوشحالی کیلئے یکجا اور متحد ہوجائیں۔ہم پاکستان سمیت پورے خطے میں امن وسلامتی اور ترقی کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ جارحانہ عزائم،باہمی تنازعات،تعصب اور دہشتگردی نے پورے خطہ کے حالات کو مخدوش کر دیاہے۔پاکستان پر امن بقائے باہمی کے اصول پر وجود میں آیا،پر امن بقائے باہمی ہماری خارجہ پالیس کا اہم اصول بھی ہے۔جنوبی ایشیا کی قیادت تعصب اور مذہبی انتہا پسندی کی سیاست ترک کرے۔انہوں نے کہاکہ ہم نیک نیتی سے خطے میں امن اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ہماری اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھاجائے،کسی بھی جارحیت کا پوری قوت سے جواب دیں گے۔

ہر قیمت پر آزادی کا دفاع کریں گے۔صدرمملکت نے کہاکہ کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم پر پاکستان سمیت پوری دنیا کو تشویش ہے۔یہ انسانی المیہ بن چکاہے۔بھارت کے 5اگست 2019اور اس کے بعد کے اقدامات اقوام متحدہ کے منشور،سلامتی کونسل کی قراردادوں اور باہمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ کی قرارداروں میں کشمیرکو متنازعہ علاقہ تسلیم کیاگیاہے۔جنوبی ایشیا ء کا پائیدار امن کا قیام تنازعہ کشمیر کے حل سے جڑاہے۔پور ی پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔بلاشبہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ہر فورم پر کشمیریوں کیلئے آواز اٹھائیں گے۔دوست ممالک،عالمی طاقتیں اور عالمی برادری کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور علاقائی امن یقینی بنانے میں اپنا کردار اداکریں۔انہوں نے کہاکہ چین سچا اور حقیقی دوست ہے۔دفاع،معیشت اور سفارتکاری سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری اور تعاون مضبوط سے مضبوط تر ہواہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری سمیت تعلیم اورطب میں تعاون اہم ہے۔چین کی جانب سے کورونا ویکسین کی فراہمی پر شکرگزار ہوں۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان نے بے پناہ جانوں اور وسائل کی قربانی دی ہے۔پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور اس حوالہ سے ہرممکن تعاون فراہم کیاہے۔جس کی دنیا معترف ہے۔ہمارے سعودی عرب،ترکی،خلیجی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ،مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔باہمی اختلافات بھلاکراتحاد بین المسلمین اور اسلامی تعاون تنظیم کو مضبوط کیاجائے۔متحد ہو کر اسلاموفوبیاکا مقابلہ کیاجائے،پاکستا ن اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے گا۔پاکستان کو مقدم رکھتے ہوئے قانون کی حکمرانی اورفروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرقومی مقاصد اور اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دور حاضر میں سائبر سپیس اور مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز ترقی اور اثرات مسلمہ حقیقت ہے،ترقی کیلئے ان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ناگزیرہے۔مسلح افواج،سائنسدانوں اور انجنئیرز کی محنت سےپاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جوکہ نہ صرف دفاعی پیداوار میں خودکفیل ہیں بلکہ برآمد کر رہے ہیں۔ایک قوم ایک منزل کے حصول کیلئے ہمیں یہ عہد کرنا ہوگاکہ جس طرح متحد ہو کر آزادی کی منزل حاصل کی تھی اسی طرح ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کریں گے.