الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں کا ڈیمو 31 مئی تک دیا جائے گا

الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں کا ڈیمو 31 مئی تک دیا جائے گا

اسلام آباد :وفاقی حکومت کی جانب سے عام انتخابات کو شفاف بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو متعارف کروانے پر تیزی سے کام جاری ہے،الیکشن کمیشن کو 31 مئی تک مقامی سطح پر بنائی جانے والے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ڈیمو بھی دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حکومتی آرڈیننس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے انتخابات کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوچکی ہیں اس کے لئے اب حکومت کو سادہ اکثریت سے ایک قانون بنانا ہوگا جس کے لئے حکومت سنجیدہ ہے اور وہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان کے استعمال کے لئے کہیں بھی انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ہوگی یہ مشینیں چارج ایبل ہیں اور جہاں بجلی دستہاب نہ ہو وہاں بھی یہ مشینیں کام کریں گے۔اس مشین کا وزن انتائی کم اور اس کی نقل وحمل انتہائی آسان ہے۔الیکشن کمیشن نے بھی انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ وزارت سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ڈیمو طلب کیا ہے۔

یہ ڈیمو 31 مئی کے بعد دیا جائے گا الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد تین لاکھ تک یہ ای وی مشینیں تیار کیا جائیں گی۔ان مشینوں کی خاص بات یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے والے کو اس کی رسید بھی فراہم کریں گے۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ماڈل پارلیمنٹ ہائوس کے گیٹ نمبر 1 پر بھی لگایا گیا ہے تاکہ ممبران پارلیمنٹ کو بھی اس سے آگاہی دی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی اقدامات اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹیکنالوجی کے خیرمقدم کے بعد اب یہ توقع کی جاسکتی ہے آئندہ انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بناتے ہوئے انتخابی عملہ کا ووٹ ڈالنے کے عمل میں کردار محدود کردیا جائے گا۔جس سے انتخابی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ہر انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی نتائج تسلیم نہ کئے جانے کے بعد حکومت نے اس سے مکمل چھٹکارا کا حل الیکٹرانک ووٹنگ مشین نکالا ہے جس پر لاگت بھی انتہائی مناسب آئے گی اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور جھنجھٹ سے بھی نجات مل سکے گی۔امریکہ میں حالیہ الیکشن کے بعد صدارتی امیدوار ٹرمپ کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے باوجود ٹیکنالوجی کی وجہ سے ان کے تمام الزمات مسترد ہوگئے