طالبان کا ملکی ایئرپورٹس کی بحالی کیلیے متحدہ عرب امارات کی کمپنی سے معاہدہ

طالبان کا ملکی ایئرپورٹس کی بحالی کیلیے متحدہ عرب امارات کی کمپنی سے معاہدہ

دوحہ: طالبان حکومت نے ملک کے 3 ایئرپورٹس کو آپریشنل کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی کمپنی ’’جی اے اے سی‘‘ سے معاہدہ کرلیا۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نے طالبان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیر ٹرانسپورٹ حمید اللہ اخوندزادہ اور افغان ایوی ایشن کے حکام نے ’’ جی اے اے سی‘‘ کے حکام سے ملاقات کی اور افغانستان کے 3 ایئرپورٹس کی بحالی کے معاہدے پر دستخط کردیئے۔

معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات کے کی کمپنی ’’جی اے اے سی‘‘ افغانستان کے 3 ہوائی اڈّوں کابل، قندھار اور ہرات پر گراؤنڈ ہینڈلنگ کی خدمات فراہم کرے گی۔ یہ کمپنی طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل بھی افغان ایئرپورٹس کی آپریشن سنبھالتی آئی ہے۔

 طالبان حکام نے میڈیا سے گفتگو میں اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ بین الااقوامی ٹرانزٹ دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے جس کے لیے کئی ماہ سے ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بات چیت جاری رکھی ہوئی تھی۔

متحدہ عرب امارات کی کمپنی ’’ جی اے اے سی‘‘ کے علاقائی ڈائریکٹر نے کہا کہ ہمارے لیے یہ نہیں بات نہیں کیوں کہ نومبر 2020 سے ہم کابل ہوائی اڈے پر خدمات فراہم کر رہے ہیں اور اگست میں جب آخری پروازیں جا رہی تھیں، کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

دارالحکومت کابل کا واحد انٹرنیشنل ہوائی اڈہ اگست میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کچرے کا ڈھیر بن گیا۔ اگرچہ کچھ ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کی آمد و رفت ہوئی ہے لیکن بڑی غیر ملکی ایئر لائنز کی مکمل سروس کی بحالی کے لیے اہم اپ گریڈ کی ضرورت ہے۔

قطر اور ترکی کی کمپنیوں کی تنظیم کنسورشیم کابل، قندھار، ہرات، مزار شریف اور خوست کے ہوائی اڈوں کو چلانے کے لیے کئی مہینوں سے طالبان حکومت سے بات چیت کر رہی ہیں لیکن یہ سلسلہ رک گیا کیونکہ طالبان نے تنصیبات کی حفاظت کے لیے اپنے جنگجوؤں کی تعیناتی پر اصرار کیا تھا۔

دوسری جانب قطر اور ترکی اس بات پر زور دے رہے تھے کہ کم از کم کابل کے ہوائی اڈے پر سیکورٹی کے انتظام ان کے پاس ہونا چاہیئے۔ جس کے باعث طالبان حکومت نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی سے معاہد کیا ہے۔

 واضح رہے کہ گزشتہ برس اگست کے وسط میں اقتدار میں آنے والی طالبان حکومت کو تاحال کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ عالمی قوتوں نے حکومت کو تسلیم کرنے کو لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول کھولنے، خواتین کی ملازمتوں پر واپسی اور کابینہ میں تمام طبقات کو نمائندگی دینے سے مشروط کیا ہے۔