مشرقی وسطیٰ میں ریت کے طوفان معمول کیوں بنتے جارہے ہیں؟

مشرقی وسطیٰ میں ریت کے طوفان معمول کیوں بنتے جارہے ہیں؟

سعودی عرب سے عراق اور کویت سے ایران تک ریت کے طوفانوں نے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر، اسکول بند ہونے اور ہزاروں افراد کو سانس لینے میں دشواری کے ساتھ اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی مزید خراب ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے آنے والے برسوں میں ناخوشگوار موسمی واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔

سعودی عرب میں ریت کے طوفان کے نتیجے میں ایک ہی دن میں تقریباً 1,285 افراد کو ریاض کے اسپتالوں میں داخل کیا گیا جو کہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوئے۔

عراق کو بھی رواں ہفتے شدید ریت کے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپریل کے وسط کے بعد سے اس کا آٹھواں ریت کا طوفان پیر کو آیا۔ کم از کم 4,000 افراد کو سانس لینے میں دشواری کے باعث ہسپتالوں میں زیر علاج رکھا گیا اور ملک بھر میں ہوائی اڈے، اسکول اور عوامی دفاتر بند کر دیے گئے۔

اگرچہ ریت یا دھول کے طوفانوں کی صحیح وجوہات ابھی تک سائنسدان مکمل طور پر نہیں جان سکے ہیں تاہم بہت سے ماہرین ایسے طوفانوں کا تعلق جنگلات کی کٹائی اور خطوں کے ریگستان میں تبدیل ہوجانے سے جوڑتے ہیں۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام میں ایک اسکالر، بنفشہ کینوش نے کہا کہ ریت اور دھول کے طوفان اکثر ان ممالک میں شروع ہوتے ہیں جہاں پیڑ پودوں کی تعداد انتہائی محدود ہوتی ہے اور تیز ہواؤں کے لیے کم رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کویت سال میں تین ماہ سے زائد تک ریت کے طوفانوں کی زد میں آچکا ہے۔ کویت میں گردآلود ہوائیں 93-109 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں جس سے مرئیت تقریباً صفر ہو جاتی ہے۔

اسی طرح سال بھر میں بحرین میں 5.6 فیصد، قطر میں 7.1 فیصد اور ابوظہبی میں 3.9 فیصد ریت کے طوفان آئے۔

خطے کے ماہرین جنہوں نے برسوں کے دوران ریت اور مٹی کے طوفانوں کا جائزہ لیا، کہا ہے کہ ایران اور عراق جیسے ممالک میں جہاں پانی کے وسائل کی بدانتظامی اور دریا خشک ہو چکے ہیں وہاں طوفانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ورلڈ میٹرولوجی آرگنائزیشن میں ریت کے طوفان کی پیش گوئی کے مرکز کے ماہر موسمیات اینرک ٹیراڈیلاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ریت کے طوفانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا براہ راست تعلق عراق اور ایران میں دریاؤں کے بہاؤ میں کمی سے ہے۔